ویسٹ انڈیز نے چوتھے روز اپنی دوسری اننگز کا آغاز سات وکٹوں پر 126 رنز سے کیا۔ صبح کے سیشن میں محمد علی نے شمر جوزف کو 38 رنز پر بولڈ کر کے اس شراکت کا خاتمہ کیا۔ بعد ازاں محمد عباس نے کیمار روچ کو 18 رنز پر آؤٹ کیا، جبکہ 55 ویں اوور کی پانچویں گیند پر جومیل واریکن کو 14 رنز پر بولڈ کر کے ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز 181 رنز پر سمیٹ دی۔ تاہم نچلے نمبروں کے بلے بازوں نے ٹیم کی برتری 155 سے بڑھا کر 210 رنز تک پہنچا دی، جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔
پاکستان کو جیت کے لیے 211 رنز کا ہدف ملا، لیکن ویسٹ انڈیز کے تیز گیند بازوں نے آغاز ہی سے اسے شدید دباؤ میں رکھا۔ پاکستان کی جانب سے صرف بابر اعظم ہی مزاحمت کرتے نظر آئے، جبکہ دوسرے بلے باز یکے بعد دیگرے پویلین لوٹتے رہے۔ ہدف حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے پاس پانچ سے کچھ زیادہ سیشن موجود تھے، مگر وہ بمشکل دو سیشن ہی کھیل سکا۔
تیسرے اوور میں ہی امام الحق، کیمار روچ کی گیند پر وکٹ کیپر شائی ہوپ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد جےڈن سیلز نے اوپنر اذان اویس کو سلپ میں کیچ کروا کر اپنی وکٹوں کا سلسلہ شروع کیا۔ پھر سلمان آغا کو بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ یوں دوپہر کے وقفے تک پاکستان نے 10 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر صرف 28رنز بنائے تھے۔
ویسٹ انڈیز کو پوری اننگز سمیٹنے کے لیے مزید صرف 30 اوورز درکار تھے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان نے کچھ دیر مزاحمت کرتے ہوئے 21 رنز کی شراکت قائم کی، لیکن جسٹن گریوز نے شاندار گیند پر رضوان کو بولڈ کر کے یہ شراکت بھی توڑ دی۔ اس کے بعد آنے والے چھ میں سے پانچ بلے باز ایک ہندسے تک محدود رہے، کیونکہ گریوز، روچ اور سیلز کی تیز رفتار بولنگ کے سامنے پاکستانی بیٹنگ مکمل طور پر بے بس دکھائی دی۔
پاکستان کی جانب سے آخری وکٹ کی شراکت ہی کچھ دیر مزاحمت کر سکی، جو 82 گیندوں تک جاری رہی۔ محمد عباس نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا جبکہ بابر اعظم نے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ بابر اعظم 58 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ محمد عباس نے 23 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان دونوں کے علاوہ کوئی بھی پاکستانی بلے باز دوہرا ہندسہ عبور نہ کر سکا۔
