Masarrat
Masarrat Urdu

یوکرین کا ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا خطرناک اقدام، جواب ضرور دیں گے: اسماعیل بقائی

  • 27 Jul 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

تہران، 27 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کو جنگ اور امن کے وقت یا دورانیے کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے مطابق ملک کا دفاع جاری رکھے گا اور قومی مفادات کے تقاضوں کے مطابق سفارتی راستہ بھی اختیار کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانا ایک خطرناک اقدام تھا، جس کا جواب ضرور دیا جائے گا، یوکرینی اقدام کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں تک پھیل سکتے ہیں، روس یوکرین جنگ کے آغاز ہی سے ایران کا مداخلت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بحیرۂ کیسپیئن سے ملحقہ ممالک کو ایسے اقدامات پر تشویش ہے۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ کچھ خلیجی ممالک ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ میں ملوث رہے ہیں، بلاشبہ جنگ میں علاقائی ممالک کی شرکت کو نظر انداز نہیں کر سکتے، امید ہے کہ علاقائی ممالک ایران کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون جاری نہیں رکھیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکہ مشکلات کا شکار ہے، یہ صورتِ حال امریکہ کی ہی پیدا کردہ ہے، انہوں نے خود ایسا کیا اور اب وہ پھنس چکے ہیں، جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا کا خیال تھا کہ ایران 3 دن میں ہتھیار ڈال دے گا اور اب مہینوں بعد امریکا اس صورتِ حال میں پھنس چکا ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کو اپنے جرائم پر فخر ہے، ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی درخواست نہیں کی، کیونکہ ایسا کرنا ہماری فطرت میں نہیں، ایران پر دباؤ ڈالنے کی وجہ ایران کا اپنے حق کا استعمال تھا، اس معاملے کا فیصلہ دنیا پر چھوڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ثالث ایران تک امریکا کے پیغامات پہنچاتے ہیں، تاہم فی الحال واشنگٹن کے ساتھ ایران کی کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی، جب بھی عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، امریکا مذاکرات کی میز پر واپس آ جاتا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ایران اور سلطنتِ عمان کے درمیان بات چیت مثبت رہی، تاہم آبنائے ہرمز کی صورتِ حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور یہ بدستور بند ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق سلطنتِ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کے انتظام کے لیے طریقہ کار وضع کرنا ہے اور ان مذاکرات کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں۔

 

Ads