مسٹر وانگچک نے پیر کو یہاں راج گھاٹ پر گاندھی جی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد صحافیوں سے کہا، "میں سب سے پہلے باپو کو یاد کرنے راج گھاٹ آنا اور ملک کو بتانا چاہتا تھا کہ ان کا بتایا ہوا راستہ آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا 100 سال پہلے تھا۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایسی حکومت کے ساتھ یہ طریقے نہیں چلتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ طریقہ حاکم سے زیادہ عوام کے دل تک پیغام پہنچاتا ہے۔"
قابلِ ذکر ہے کہ مسٹر وانگچک نے نیٹ پیپر لیک نیز اس کے بعد 22 امیدواروں کی خودکشی پر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 28 جون سے یہاں جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ کچھ دنوں کے بعد پولیس نے مسٹر وانگچک کو وہاں سے ہٹا کر اسپتال میں داخل کرا دیا تھا۔ حکومت کی طرف سے ان کے مطالبات پر کچھ یقین دہانی کرائے جانے کے بعد انہوں نے 26 دن کی بھوک ہڑتال ختم کی تھی۔
مسٹر وانگچک نے کہا، "کوئی بھی حاکم ہو، وہ عوام کی سنتا ہے، چاہے میری نہ سنے۔ میں نے گاندھی جی کے تجربے کو ایک بار پھر کامیاب ہوتے دیکھا۔ اس سے پہلے لداخ میں ہم گاندھی جی کے اس تجربے کا استعمال کرتے آئے ہیں اور اسے بہت اہم دیکھا، لیکن قومی سطح پر بھی یہ اس قدر اہم ہوگا، یہ مجھے معلوم نہیں تھا۔ آج مجھے تسلی ہوئی کہ 100 سال بعد بھی یہ اتنا ہی اہم ہے۔"
انہوں نے کہا، "میں ہندوستان اور دنیا کی عوام سے یہی کہوں گا کہ وہ باپو کے دکھائے ہوئے امن کے راستے پر ہی چلیں۔ اس راستے پر چلتے ہوئے اگر خود کو تکلیف دیں، اور دوسرے کو تکلیف نہ دیں تو یہ کسی بھی سخت سے سخت دل کو پگھلا سکتا ہے۔ میں اس ملک کی نوجوان نسل کو، تمام عام شہریوں کو اور اس تحریک کو پرامن طریقے سے آگے بڑھانے والے لوگوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے تو یہ ہمارے بازوؤں کی طاقت سے نہیں، بلکہ امن کی اپیل سے ہوئی ہے۔"
وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سے متعلق سوال پر مسٹر وانگچک نے کہا کہ انہیں اس کے بعد نظام میں اصلاح ہونے کی امید ہے، ورنہ استعفے کا کوئی مطلب نہیں۔ بھول ہونے کے بعد اگر بیماری کا علاج ہو تو ہمارا ملک ایک بہتر ملک بنے گا۔
