وزارت نے پیر کو بتایا کہ یوکرین کے سفیر ڈاکٹر اولیکژاندر پولیشچک کو آج طلب کیا گیا اور تجارتی جہاز ایم وی اومورفی پر ہوئے حملے کو لے کر شدید احتجاج درج کرایا گیا۔ اس حملے میں جہاز پر سوار ایک ہندوستانی شہری کی دردناک موت ہو گئی تھی۔ وزارت نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور تجارتی جہازوں پر اس طرح کے حملوں کی سخت مذمت کی۔ ساتھ ہی، بحری جہاز رانی کی سکیورٹی، آزادی اور بین الاقوامی تجارت پر ان کے برے اثرات کا بھی ذکر کیا۔
مسٹر پولیشچک سے کہا گیا کہ وہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بارے میں ہندوستان کی شدید تشویش سے یوکرین کے حکام کو آگاہ کریں۔ ہندوستان نے یہ بھی دہرایا کہ ایسی حرکتیں، جن سے بے قصور عام شہریوں کی جان کو خطرہ ہوتا ہے، قابلِ قبول نہیں ہیں اور ان سے بچا جانا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ایم وی اومورفی پر 18 جولائی کو بحیرہٴ اسود میں حملہ ہوا تھا۔ اس وقت یہ روس کے سمندری علاقے کے پاس سے گزر رہا تھا اور اس واقعے کو روس-یوکرین تنازع سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
