Masarrat
Masarrat Urdu

ایتھنول جیسے متبادل انتظامات سے ایندھن کی درآمد پر کم ہوگا انحصار: گڈکری

Thumb

نئی دہلی، 04 جولائی (مسرت ڈاٹ کام) پیٹرول میں ایتھنول آمیزش کے حکومت کے پروگرام کی بعض حلقوں میں ہو رہی تنقید کے درمیان مرکزی سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نتن گڈکری نے گاڑیوں کے لیے ایسے ایندھن کی پرزور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تیل کی درآمدات میں بھاری بچت ہو سکتی ہے اور متبادل ایندھن پر چلنے والی گاڑیاں دستیاب ہیں۔

مسٹر گڈکری نے کہا کہ متبادل ایندھن کے وسیع استعمال سے پیٹرولیم ایندھن کی درآمد پر ہونے والے اخراجات کا ایک بڑا حصہ بچایا جا سکتا ہے اور بائیو ایندھن کے لیے خام مال پیدا کرنے والے کسانوں اور مینوفیکچرنگ چین سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ وہ جمعہ کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (سی اے) کی ایک ذیلی علاقائی کانفرنس سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایتھنول، میتھنول، بائیو ڈیزل جیسے متبادل ایندھن کو فروغ دے کر پیٹرولیم ایندھن کی درآمد پر ملک کا انحصار کم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ مکئی سے ایتھنول کی پیداوار بڑھنے سے کسانوں کو بھی بڑا اقتصادی فائدہ مل رہا ہے۔

سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کے وزیر نے کہا کہ متبادل توانائی ایتھنول، میتھنول، بائیو ڈیزل، ایل این جی، الیکٹرک اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیاں اب ملک کی مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ آٹوموبائل کے شعبے میں ہندوستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی آٹوموبائل مارکیٹ ہے۔ انہوں نے ملک کو پہلے نمبر پر لے جانے کے خواب اور عزم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت آٹوموبائل کے شعبے میں پوری طاقت کے ساتھ اس ہدف کے لیے کام کر رہی ہے۔ اسی مقصد سے حکومت نے متبادل ایندھن اور نئی ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا شروع کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ہم تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ہماری اسی محنت کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان میں بنے الیکٹرک اسکوٹرز بھی برآمد کیے جا رہے ہیں۔ مسٹر گڈکری نے کہا کہ ہائیڈروجن اور دیگر ماحول دوست ایندھن کی ٹیکنالوجیز کی توسیع سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبے تیار کرنے ہوں گے، تاکہ ٹیکنالوجی گاؤں تک پہنچے اور دیہاتیوں کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ دو دن پہلے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ اس دوران انہیں بتایا گیا کہ بدری ناتھ اور گنگوتری تک بہتر سڑک رابطہ قائم ہونے کی وجہ سے یاتریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر سڑک رابطے سے سیاحت کی صنعت کو فروغ ملے گا اور پانی، جنگل اور زمین پر مبنی اقتصادی سرگرمیوں کے ذریعے دیہی علاقوں میں خوشحالی آئے گی۔ کسی بھی شعبے میں ایمانداری، ساکھ، وقار اور شفافیت کے ساتھ کیا گیا کام یقینی طور پر کامیابی لاتا ہے۔

مسٹر گڈکری نے کہا کہ ملک کی لاجسٹکس لاگت کو کم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) بنگلورو، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) کانپور اور آئی آئی ٹی مدراس کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی لاجسٹکس لاگت میں تقریباً چھ فیصد کی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہندوستان کی لاجسٹکس لاگت مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد تھی، جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک میں یہ تقریباً 12 فیصد اور چین میں آٹھ سے نو فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مسابقتی برتری کی ایک بڑی وجہ وہاں مال برداری کی کم لاگت ہے۔ ہندوستان میں بھی سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ذریعے مال برداری کی لاگت کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس سے صنعت، تجارت اور معیشت کو مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔

 

Ads