امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایک بیان میں کہا: "کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر افواج نے بدھ کی رات ایران میں متعدد مقامات پر اضافی سیلف ڈیفنس حملے کیے۔"
بیان کے مطابق امریکی فوج نے ایران کی فوجی نگرانی کی صلاحیتوں، مواصلاتی نظام اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ یہ حملے ایران کی بلااشتعال اور مسلسل جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج پوری طرح چوکس، مہلک اور تیار ہے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مذاکرات میں تاخیر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ مسٹر ٹرمپ کے بیان کے بعد، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے بھی خبردار کیا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف "سخت" حملے کرے گی۔
ایرانی میڈیا نے اپنی رپورٹوں میں بتایا ہے کہ بندر عباس کی بندرگاہی شہر، جنوبی ایران کے شہر سیریک، صوبہ البرز کے شہر اشتہارد کے قریب اور شہر کرج میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اس کے علاوہ میناب اور مہر شہروں میں بھی دھماکوں کی آواز سنی گئی۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے کرگان شہر میں امریکی حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
