انہوں نے کہا کہ کسی معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔
امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے اور ایرانی جوہری پروگرام کے معاملے کے حل کے بعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی۔
ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اور بغیر کسی عبوری فیس کے کھولا جانا چاہیے جبکہ ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ بتدریج اپنی مطلوبہ شرائط حاصل کر رہا ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو تنازع کا خاتمہ کسی دوسرے طریقے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت لگ رہا ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کار تجربہ کار ہیں، تاہم انہیں اس حوالے سے کسی قسم کی جلدی نہیں۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکا ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی خریدے گا۔
امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ موجودہ محاذ آرائی امریکہ کی مکمل کامیابی ثابت ہوئی ہے اور ان کے بقول جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ایرانی نظام میں تبدیلی کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے مجوزہ فریم ورک معاہدے کی شرائط مزید سخت کر کے اپنی ترامیم تہران کو بھجوا دی ہیں۔
رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سمیت بعض اہم اور متنازع نکات کو آئندہ مذاکراتی مراحل تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ کے خاتمے کے بدلے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ زیر غور مفاہمتی یادداشت میں بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر 60 روز کے اندر ایران کو جاری کرنے کی تجویز شامل ہے۔
واضح رہے کہ منجمد ایرانی اثاثے، پابندیوں میں نرمی، افزودہ یورینیم کی منتقلی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال موجودہ مذاکرات کے اہم اور حساس نکات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
