امریکی فوج کے مطابق، جنرل ڈونووان نے جمعہ کے روز کیوبا کے فوجی سربراہ جنرل رابرٹو لیگرا سوٹولونگو اور دیگر سینئر حکام کے ساتھ “آپریشنل سکیورٹی امور پر مختصر گفتگو” کی۔ ساؤتھ کام نے بتایا کہ اس دورے کے دوران جنرل ڈونووان نے اڈے کی سکیورٹی کا جائزہ لیا اور فوجی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت اور آپریشنل تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا۔
کیوبا کی وزارتِ دفاع نے اس ملاقات کو “مثبت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
گوانتانامو بے کے اطراف سکیورٹی معاملات پر امریکی اور کیوبائی حکام کے درمیان نچلی سطح کی “فیس لائن ملاقاتیں” وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہیں، لیکن کسی یونائیٹڈ کمبیٹنٹ کمان کے سربراہ کی براہِ راست کیوبا کے اعلیٰ حکام سے ملاقات انتہائی نایاب سمجھی جاتی ہے۔
یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کیوبا پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ نے نہ صرف کیوبا پر پابندیاں سخت کی ہیں اور اقتصادی اقدامات میں اضافہ کیا ہے، بلکہ یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع حل ہونے کے بعد کیوبا امریکہ کی خارجہ پالیسی کا ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جن میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا ہوانا دورہ اور امریکی سفارت کاروں کی ملاقاتیں شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا پر امریکہ کے لیے سکیورٹی خطرہ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جزیرے پر روسی اور چینی خفیہ سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام نے ان اطلاعات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ کیوبا نے اپنے دو بڑے حریف ممالک، روس اور چین، سے حملہ آور ڈرون حاصل کیے ہیں۔
ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کیوبا کے صدر میگوئل دیاز-کینیل نے زور دے کر کہا ہے کہ کیوبا امریکہ کے لیے کوئی فوجی خطرہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی امریکی فوجی مداخلت کا نتیجہ “خونریزی” ہوگا۔
