Masarrat
Masarrat Urdu

ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت لگ رہا ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کار تجربہ کار ہیں : ٹرمپ

  • 31 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 31 مئی (مسرت ڈاٹ کام) امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں اور اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ ایک اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے۔فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم اگر معاہدہ تسلی بخش نہ ہوا تو فوجی آپشن دوبارہ زیر غور آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھول دی جائے گی۔

امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے اور ایرانی جوہری پروگرام کے معاملے کے حل کے بعد امریکی افواج خطے سے واپس چلی جائیں گی۔

ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر اور بغیر کسی عبوری فیس کے کھولا جانا چاہیے جبکہ ایران کو مستقل طور پر جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جانا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ بتدریج اپنی مطلوبہ شرائط حاصل کر رہا ہے، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو تنازع کا خاتمہ کسی دوسرے طریقے سے بھی کیا جا سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں وقت لگ رہا ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کار تجربہ کار ہیں، تاہم انہیں اس حوالے سے کسی قسم کی جلدی نہیں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تہران پہلے ہی اس بات پر رضامند ہو چکا ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی خریدے گا۔

امریکی صدر نے ایک بار پھر کہا کہ موجودہ محاذ آرائی امریکہ کی مکمل کامیابی ثابت ہوئی ہے اور ان کے بقول جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات کو ایرانی نظام میں تبدیلی کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ٹرمپ نے مجوزہ فریم ورک معاہدے کی شرائط مزید سخت کر کے اپنی ترامیم تہران کو بھجوا دی ہیں۔

رپورٹ میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام سمیت بعض اہم اور متنازع نکات کو آئندہ مذاکراتی مراحل تک مؤخر کیا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ کے خاتمے کے بدلے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد پابندیوں اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ زیر غور مفاہمتی یادداشت میں بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 12 ارب ڈالر 60 روز کے اندر ایران کو جاری کرنے کی تجویز شامل ہے۔

واضح رہے کہ منجمد ایرانی اثاثے، پابندیوں میں نرمی، افزودہ یورینیم کی منتقلی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال موجودہ مذاکرات کے اہم اور حساس نکات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

 

Ads