اس دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، چین کے صدر شی جن پنگ نے استقبالیہ وفد کی قیادت کے لیے چین کے نائب صدر ہان ژینگ کو بھیجا۔ ہان ژینگ کو صدر شی کا اہم سفارتی نمائندہ تصور کیا جاتا ہے۔ وہ اس سے قبل چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلے کرنے والے ادارے 'پولیٹ بیورو' کی مستقل کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں اور گزشتہ سال مسٹر ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں بھی شریک ہوئے تھے۔
ہوائی اڈے پر موجود دیگر حکام میں چین میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ پرڈیو، امریکہ میں چین کے سفیر شی فینگ اور چین کی وزارتِ خارجہ کے ایگزیکٹو ڈپٹی منسٹر ما ژاکشو شامل تھے۔ مسٹر ٹرمپ کا استقبال کرنے کے لیے نیلی اور سفید وردی میں ملبوس تقریباً 300 چینی نوجوانوں نے ہاتھوں میں چین کے جھنڈے تھامے رن وے پر مارچ کیا۔ اس دوران 'گارڈ آف آنر' اور ملٹری بینڈ بھی موجود تھا۔
صدر شی جن پنگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق ٹرمپ کا باقاعدہ رسمی استقبال کریں گے۔ چین میں ٹرمپ کی آمد کو دنیا کی دو سب سے بڑی اقتصادی قوتوں کے درمیان تعلقات کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ 2017 میں ان کے آخری دورۂ چین کے بعد، یہ کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی، تجارت اور تائیوان سمیت متعدد امور پر مسابقت اور تناؤ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ حال ہی میں ایران کے ساتھ جنگ اور چین-ایران کی نزدیکیوں نے بھی ان تعلقات کو ایک نئی حساسیت دی ہے۔ مسٹر ٹرمپ اور صدر شی کے درمیان جمعرات سے شروع ہونے والی دو روزہ بات چیت میں ٹیکنالوجی، تجارت، تائیوان اور عالمی سلامتی سے متعلق مسائل پر بحث کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق ان مسائل کے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یہ ملاقات امریکہ-ایران تنازع کے ممکنہ حل کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ایران کا قریبی شراکت دار ہونے کی وجہ سے چین ایک ممکنہ ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، حالانکہ مسٹر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے انہیں چین کی ضرورت نہیں ہے۔ چین-امریکہ مذاکرات سے زراعت، ہوا بازی اور سرمایہ کاری جیسے شعبوں میں بڑے معاہدوں کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
مسٹر ٹرمپ کے ساتھ ان کی قومی سلامتی اور اقتصادی ٹیم کے کئی سینیئر ارکان بھی بیجنگ پہنچے ہیں، جن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر شامل ہیں۔ وفد میں ایک درجن سے زائد نامور کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں ٹم کک، ایلون مسک، کیلی آرٹ برگ اور بلیک راک، سٹی گروپ، گولڈ مین سیکس اور ماسٹر کارڈ جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ کو بھی الاسکا میں 'ایئر فورس ون' طیارے میں سوار ہوتے دیکھا گیا جب طیارہ وہاں ایندھن بھرنے کے لیے رکا تھا۔ بعد ازاں ایلون مسک نے 'ایکس' (ٹویٹر) پر بتایا کہ وہ اور ہوانگ ہی صدر ٹرمپ کے طیارے میں موجود دو کاروباری شخصیات تھے۔ ہالی ووڈ ڈائریکٹر بریٹ ریٹنر بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، جو 'رش آور' فلم سیریز اور حال ہی میں میلانیہ ٹرمپ پر بننے والی دستاویزی فلم کے لیے مشہور ہیں۔
