منگل کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق، ان شرائط میں تمام محاذوں بالخصوص لبنان میں جنگ کا خاتمہ، ایران کے خلاف عائد پابندیاں ہٹانا، ایرانی اثاثوں کو بحال کرنا، نقصانات کا معاوضہ ادا کرنا اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
تہران نے امریکہ کے ساتھ جاری اس گفتگو میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ سمندری ناکہ بندی نے ایرانی موقف کو مزید ہوا دی ہے کہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی سرزمین پر حملے کیے تھے۔ جواب میں ایران نے بھی اسرائیلی علاقے اور مشرقِ وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے پیدا ہونے والے مبینہ خطرے سے نمٹنے کے لیے یہ "احتیاطی" حملہ ضروری تھا، تاہم جلد ہی انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔
بعد ازاں 7 اپریل کو واشنگٹن اور تہران نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ اگرچہ دوبارہ لڑائی شروع ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی، لیکن امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی سمندری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ثالثی کرنے والے ممالک اس وقت مذاکرات کے ایک نئے دور کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔
اس دوران 4 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ واشنگٹن کا بنیادی ہدف اب بھی یہی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
