Masarrat
Masarrat Urdu

ٹرمپ کے "گولڈن ڈوم" دفاعی منصوبے کی لاگت 1200 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

  • 13 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 13 مئی (مسرت ڈاٹ کام) امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ میزائل دفاعی نظام "گولڈن ڈوم" پر آئندہ 20 برسوں میں 1200 ارب ڈالر تک خرچ آ سکتا ہے، جو امریکی انتظامیہ کے پہلے پیش کیے گئے تخمینوں سے کہیں زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق اس بڑے دفاعی منصوبے میں 1000 ارب ڈالر سے زائد رقم نظام کی خریداری اور تنصیب پر خرچ ہونے کا امکان ہے۔ اس میں میزائل روکنے والی مختلف دفاعی تہیں، پیشگی انتباہی نظام اور خلا میں نگرانی کے جدید انتظامات شامل ہوں گے۔

بجٹ دفتر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ خلائی انٹرسیپشن سسٹم اس منصوبے کا سب سے مہنگا حصہ بن سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہی نظام مجموعی خریداری لاگت کا تقریباً 70 فی صد جبکہ مکمل منصوبے کے متوقع اخراجات کا لگ بھگ 60 فی صد حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔

اے ایف پی کے مطابق رپورٹ میں سالانہ آپریشنل اور معاون اخراجات کا اوسط تخمینہ 8.3 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جس سے اس دفاعی منصوبے کے طویل مدتی مالی بوجھ کی عکاسی ہوتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں پینٹاگان کو جدید میزائل دفاعی ڈھال تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ابتدا میں اس منصوبے کو "امریکہ کا آئرن ڈوم" قرار دیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے "گولڈن ڈوم" رکھ دیا گیا۔

بعد ازاں مئی 2025 میں ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے 25 ارب ڈالر مختص کرنے اور اس کی مجموعی لاگت 175 ارب ڈالر رہنے کا دعویٰ کیا تھا، مگر کانگریس کے بجٹ دفتر کی تازہ رپورٹ میں اس لاگت کا تخمینہ کئی گنا زیادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

اسی ادارے نے اپنی ایک سابقہ رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے والے خلائی انٹرسیپٹر سسٹمز پر 20 برسوں کے دوران 161 ارب سے 542 ارب ڈالر تک خرچ آ سکتا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد صرف محدود میزائل حملوں کو روکنا نہیں بلکہ 2026 کی امریکی قومی دفاعی حکمت عملی کے تحت پینٹاگان بڑے پیمانے پر میزائل حملوں اور جدید فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے نسبتاً کم لاگت مگر مؤثر دفاعی نظام تیار کرنے پر بھی توجہ دے گا۔

اگرچہ "گولڈن ڈوم" منصوبہ ابھی ابتدائی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے، تاہم نئے مالی تخمینے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خلا پر مبنی کثیر تہہ دفاعی نظام کی تیاری امریکہ کے لیے نہ صرف تکنیکی بلکہ غیر معمولی مالی چیلنج بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

 

 

Ads