Masarrat
Masarrat Urdu

امریکی حملوں کے باوجود ایران نے میزائل طاقت کا بڑا حصہ بحال کر لیا: انٹیلی جنس رپورٹ

  • 13 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

واشنگٹن، 13 مئی (مسرت ڈاٹ کام) امریکی خفیہ اداروں کے تازہ انٹیلی جنس تجزیوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران نے حالیہ جنگ اور شدید فضائی حملوں کے باوجود اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ دوبارہ بحال کر لیا ہے، جس میں لانچنگ سائٹس، موبائل میزائل پلیٹ فارمز اور زیرِ زمین عسکری تنصیبات تک رسائی بھی شامل ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے منگل کو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تہران آبنائے ہرمز کے قریب واقع 33 میں سے 30 میزائل سائٹس کو دوبارہ فعال بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ ان مقامات کو موبائل پلیٹ فارمز کے ذریعے میزائلوں کی نقل و حرکت اور لانچنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی ملک بھر میں پھیلے موبائل لانچرز کا تقریباً 70 فی صد حصہ موجود ہے، جبکہ جنگ سے پہلے موجود میزائل ذخیرے کا بھی لگ بھگ 70 فی صد محفوظ رکھا گیا ہے۔

انٹیلی جنس تخمینوں کے مطابق تہران نے اپنی زیرِ زمین میزائل اسٹوریج اور لانچنگ تنصیبات کے تقریباً 90 فی صد حصے تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورت حال شدید بم باری کے باوجود ایرانی فوجی ڈھانچے کی مضبوطی اور تیزی سے دوبارہ تعیناتی کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے پاس اب "کوئی بحری بیڑا باقی نہیں رہا" جبکہ اس کی فضائیہ بھی "تباہ" ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا واشنگٹن کی اولین ترجیح ہے، چاہے اس کے لیے امریکہ کو اندرونی معاشی دباؤ، افراطِ زر اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں جیسے مسائل کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

تاہم نئے امریکی انٹیلی جنس تجزیے اس تاثر سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران اپنی تزویراتی میزائل طاقت کے ایک بڑے حصے کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا ہے، خاص طور پر وہ صلاحیتیں جو موبائل انفراسٹرکچر اور زیرِ زمین دفاعی تنصیبات سے منسلک ہیں۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل سائٹس کی موجودگی تہران کے لیے غیر معمولی تزویراتی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اس سمندری راستے سے دنیا کی تیل برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران خلیجی خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور فوجی نقل و حرکت سے متعلق دھمکیوں کے تبادلے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

ادھر پاکستان اور چین سمیت مختلف بین الاقوامی فریقوں کی ثالثی کوششیں جاری ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایرانی جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ خطے میں طاقت کے توازن پر اختلافات کم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔

 

Ads