کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے اتوار کو سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے گزشتہ 28 اپریل کے دورہ گریٹ نکوبار سے حکومت بوکھلا گئی ہے، اس لیے اس نے یکم مئی کو پریس ریلیز جاری کر کے توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت ممکنہ ماحولیاتی بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ گریٹ نکوبار جزیرہ ماحولیاتی نقطہ نظر سے انتہائی حساس اور منفرد علاقہ ہے۔ وہاں گزشتہ پانچ سال میں پرندوں، سانپوں، گیکو (چھپکلی) اور کیکڑوں سمیت تقریباً 50 نئی اقسام دریافت ہوئی ہیں۔ گیلا تھیا خلیج، جہاں بندرگاہ تجویز کی گئی ہے، کوسٹل ریگولیشن زون-1-اے میں آتی ہے اور یہ لیدر بیک کچھوؤں کی افزائش کی اہم جگہ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ماحولیاتی منظوری کے عمل میں وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اور زولوجیکل سروے آف انڈیا جیسے اداروں پر دباؤ ڈالا گیا اور بعد میں انہی کو پروجیکٹ سے متعلق کام سونپے گئے، جس سے مفادات کے تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ درختوں کی کٹائی کے اعداد و شمار کے حوالے سے حکومت کے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں اور اب تک اس میں وضاحت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اوقات میں مختلف اعداد و شمار دیے جانے سے صورتحال مشکوک ہو جاتی ہے۔
انہوں نے تلافی آمیز شجرکاری کی تجویز کو ماحولیاتی نقطہ نظر سے ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نکوبار جیسےمالامال ماحولیاتی خطے کی تلافی مختلف جغرافیائی خطے میں شجرکاری سے نہیں کی جا سکتی اور یہ ماحولیاتی اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیلا تھیا خلیج کو پہلے وائلڈ لائف سینکچری قرار دیا گیا تھا، لیکن بعد میں پروجیکٹ کے لیے اسے نوٹیفکیشن سے ہٹا کر اس کی کیٹیگری تبدیل کر دی گئی۔
قبائلی حقوق کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ نکوباری کمیونٹی نے پروجیکٹ کے بارے میں تشویش ظاہر کی ہے اور شونپین جیسی حساس کمیونٹی کی رضامندی کے عمل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کے تحت حقوق کا عمل جلد بازی میں مکمل کیا گیا۔
پروجیکٹ کی مالیاتی عملیت پر سوال اٹھاتے ہوئے مسٹر رمیش نے کہا کہ مجوزہ ہوائی اڈہ اور پروجیکٹ کے دیگر دعوے ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں اور اس سے جڑے کئی عملی سوالات کے جوابات نہیں دیے گئے ہیں۔ انہوں نے شفافیت کی کمی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ سے متعلق کئی اہم دستاویزات عام نہیں کیے گئے ہیں اور رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) کے تحت بھی معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں۔ قومی سلامتی کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اسے پروجیکٹ سے جوڑنا مناسب نہیں ہے اور اس پر پارلیمنٹ میں جامع بحث ہونی چاہیے۔
