مسٹر کھڑگے نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ عالمی یومِ آزادیٔ صحافت کے موقع پر قوم کو ایک سخت اور ناقابلِ تردید حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 کے بعد سے ہندوستان کی پوزیشن مسلسل گرتی جا رہی ہے اور اب یہ عالمی سطح پر 157ویں مقام پر آچکی ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ایک حقیقی آزاد پریس کا مقصد حکومت کی کہانی کو فروغ دینا یا اس کی ناکامیوں کو چھپانا نہیں ہوتا۔ پریس کا کام اقتدار کے کام کاج کی جانچ کرنا، سوال اٹھانا اور حکمرانوں کو جوابدہ بنانا ہے۔ جمہوریت میں میڈیا طاقت اور عوام کے درمیان توازن برقرار رکھتا ہے، اور صحافی سچ کے محافظ ہوتے ہیں۔
انہوں نے اس سلسلے میں پنڈت جواہر لعل نہرو کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ “پریس کی آزادی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ جمہوری عمل کا لازمی جزو ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت میں یہ لازمی جزو بری طرح متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے سنگھ پریوار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے قانونی ڈھانچے کو ہتھیار بنا کر نیوز رومز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہتکِ عزت، قومی سلامتی اور دیگر سخت قوانین کا استعمال انصاف کے بجائے ڈرانے دھمکانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2014 سے 2020 کے درمیان 135 سے زیادہ صحافیوں کو گرفتار، حراست میں لیا گیا یا ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔ 2014 سے 2023 تک 36 صحافیوں کو جیل بھیجا گیا، اور کئی پر یو اے پی اے جیسے سخت قوانین بھی لگائے گئے۔
انہوں نے صحافیوں کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں صحافیوں کے قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اتر پردیش کے راگھویندر باجپئی، چھتیس گڑھ کے مکیش چندراکر، اتراکھنڈ کے راجیو پرتاپ سنگھ اور ہریانہ کے دھرمیندر سنگھ چوہان کے نام لیے، جو بدعنوانی اور عوامی مسائل پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اب سوشل میڈیا پر بھی سخت کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پیغام واضح ہے کہ آزاد صحافت کو سزا اور اطاعت کو انعام دیا جائے گا، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کا طریقہ کار ہے۔ انہوں نے سب سے اس معاملے پر سنجیدہ غور و فکر کی اپیل کی اور حکومت سے جمہوری اقدار، اداروں اور عوامی خدمت کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔
