Masarrat
Masarrat Urdu

کانگریس نے آخری لمحات کے حج سرچارج کی مذمت کی، فوری طور پر واپسی کا مطالبہ کیا

  • 03 May 2026
  • مسرت ڈیسک
  • مذہب
Thumb

نئی دہلی، 3 مئی (مسرت ڈاٹ کام) کانگریس رہنما ناصر حسین نے اتوار کے روز اقلیتی امور کی وزارت کی جانب سے جاری حالیہ سرکلر پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جس میں حج عازمین سے اضافی رقم طلب کی گئی ہے۔ انہوں نے اسے “من مانی، غیر ضروری اور انتظامی ناکامی کی عکاسی” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اسے واپس لینے اور متاثرہ عازمین کو مکمل رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ تنازعہ 28 اپریل 2026 کے ایک سرکلر سے متعلق ہے، جس میں ہر حج عازم کو 15 مئی تک اضافی رقم جمع کرانے کی ہدایت دی گئی، حالانکہ عازمین پہلے ہی کئی قسطوں میں مکمل ادائیگی کر چکے تھے۔ ناصر حسین نے کہا کہ یہ مطالبہ بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مشاورت کے کیا گیا، جس سے ہزاروں عازمین پر مالی اور ذہنی دباؤ بڑھا ہے، جن میں بڑی تعداد بزرگ افراد کی ہے اور کچھ پہلے ہی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ “آخری وقت میں کیا گیا یہ مطالبہ ان عازمین کے لیے غیر ضروری مشکلات پیدا کر رہا ہے، جنہوں نے برسوں بچت کر کے اس مذہبی فریضے کی تیاری کی تھی۔ انہیں شہریوں کے بجائے آمدنی کے ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو کہ افسوسناک ہے۔”

انہوں نے حج اخراجات میں اضافے کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ سرکاری ذرائع سے لیے جانے والے ہوائی کرائے اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں “تقریباً دوگنے” ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی پیکیج کی قیمت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام خاندانوں کے لیے حج کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ “یہ کوئی اختیاری خرچ نہیں بلکہ زندگی میں ایک بار ادا کیا جانے والا روحانی فریضہ ہے، جس کے لیے لوگ برسوں تک بچت کرتے ہیں۔”

حکومت نے اضافی چارج کی وجہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو قرار دیا ہے، تاہم ناصر حسین نے اس جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “اگر ایندھن کی قیمتوں کا بوجھ عام عوام پر نہیں ڈالا گیا تو حج عازمین کو آخری وقت میں کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟” انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ بیرونی معاشی عوامل کے بجائے نظامی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

Ads