Masarrat
Masarrat Urdu

مونٹی دیسائی کینیڈا کے ہیڈ کوچ مقرر، کرکٹ کینیڈا میں بڑی اصلاحات اور تبدیلیوں کا امکان

Thumb

ٹورنٹو، 30 اپریل (یواین آئی) مونٹی دیسائی کی کینیڈین مینز ٹیم کے ہیڈ کوچ کے طور پر تقرری کو محض ایک روایتی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ کرکٹ کینیڈا کی تاریخ کے اس ہنگامہ خیز دور میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے جہاں بورڈ بدانتظامی، بدعنوانی اور سنگین تنازعات کی زد میں ہے۔

یہ تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کرکٹ کینیڈا 9 مئی کو ہونے والے اپنے فیصلہ کن سالانہ جنرل اجلاس (اے جی ایم) کی تیاری کر رہا ہے، جس میں بورڈ کے متعدد ڈائریکٹرز کی نشستوں کے لیے انتخابات ہوں گے۔

کینیڈین کرکٹ میں یہ تبدیلیاں 15 اپریل کو سی بی سی نیوز کے ان سنسنی خیز انکشافات کے بعد رونما ہو رہی ہیں، جن میں گورننس کی ناکامی اور مبینہ بدعنوانی کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ اس سے قبل عدالتی حکم پر سابق صدر امجد باجوہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، جبکہ 9 اپریل کے خصوصی جنرل اجلاس (ایس جی ایم) میں پریم پرساد کی برطرفی اور سکریٹری منندر گل کے استعفے کے بعد برٹش کولمبیا کے امریندر کھوسہ کو عبوری صدر مقرر کیا گیا تھا۔

آئی پی ایل جیسے ہائی پرفارمنس ماحول میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھنے والے مونٹی دیسائی کی آمد کو کینیڈین کرکٹ میں "شفافیت اور جوابدہی" کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پوبودو داسانائیکے کی روانگی کے بعد کوچنگ کے شعبے میں کئی مشکوک انتخاب سامنے آئے تھے، جن میں خرم چوہان جیسے نام بھی شامل تھے جن پر فکسنگ کے الزامات لگے تھے۔ دیسائی کی تقرری سے نہ صرف ٹیم کلچر بہتر ہونے کی امید ہے بلکہ کپتانی جیسے متنازع فیصلوں میں بھی بیرونی مداخلت کم ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 22 سالہ دلپریت باجوہ کو ٹی-20 ورلڈ کپ سے قبل اچانک کپتان بنائے جانے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دلپریت باجوہ اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے مبینہ 'اسپاٹ فکسنگ' کی تحقیقات کی زد میں ہیں۔ اس کے علاوہ عبوری صدر امریندر کھوسہ کے بعض ایسے افراد سے روابط کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں جن کا تعلق مبینہ طور پر 'بشنوئی گینگ' سے ہے، تاہم کھوسہ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

سابق سی ای او سلمان خان کا دورِ اقتدار کرکٹ کینیڈا کے لیے انتہائی متنازع رہا۔ مالی بدعنوانی کے الزامات اور پولیس تحقیقات کے باوجود انہیں عہدے پر برقرار رکھا گیا تھا۔ اب وہ بورڈ سے تقریباً پونے پانچ لاکھ امریکی ڈالر معاوضہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جی ٹی-20 کینیڈا کے حقوق بمبئی اسپورٹس لمیٹڈ سے چھین کر نیشنل کرکٹ لیگ (این سی ایل) کو 50 سال کے لیے دینے کا فیصلہ بھی شدید تنقید کا شکار ہے، کیونکہ این سی ایل پہلے ہی آئی سی سی کی جانب سے خلاف ورزیوں پر معطل ہو چکی ہے۔

 

Ads