مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے 'ایکس' پر کہا: "لاتعداد خاندانوں کے لیے حج زندگی میں ایک بار پورا ہونے والا وہ خواب ہے جسے انہوں نے برسوں تک اپنے سینے سے لگا کر رکھا ہے۔ میں اس جذبے کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں۔"
انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی کی وجہ سے ہوائی جہاز کے ایندھن کی قیمتوں میں عالمی سطح پر بھاری اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایئر لائنز نے ہر حاجی سے 300 سے 400 ڈالر کے بڑے اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایندھن کی قیمتوں میں اس اضافے کے لیے ایئر لائنز کو بھی قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ تاہم، باہمی بات چیت اور مول تول کے ذریعے ہم نے یہ یقینی بنایا کہ یہ اضافہ صرف 100 ڈالر تک ہی محدود رہے، جس سے ہر حاجی کے کافی پیسے بچ گئے۔
وزیر موصوف نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ مکمل شفافیت اور نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ حج 2026 کے انتظامات میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔ اس سے قبل وزارت کی جانب سے بتایا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران کی وجہ سے ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔ حکومت کی مداخلت سے ہر مسافر کو 200 سے 300 ڈالر تک کی راحت ملی ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ کوئی استحصال نہیں بلکہ مسافروں کو بڑے معاشی بوجھ سے بچانے کی کوشش ہے۔ اب تک ایک لاکھ سے زائد عازمین پہلے ہی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ نجی ٹور آپریٹرز پہلے ہی اپنے کرایوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں اور بعد میں مزید 150 ڈالر کا اضافی بوجھ بھی ڈالا گیا ہے، جبکہ سرکاری کوٹے کے تحت اس بوجھ کو کم رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
