صدر پزشکیان نے مذاکرات اور جنگ بندی کے دوران امریکہ کے مسلسل دباؤ اور مبینہ خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر عائد سمندری پابندیاں جنگ بندی کے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات اور دھمکی آمیز بیانات نے امریکہ کی سفارتی عمل کے لیے سنجیدگی پر شکوک پیدا کر دیے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنے تمام ہمسایہ ممالک، خصوصاً خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں سے ملحق ممالک کے ساتھ اچھے ہمسائیگی اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ممالک بھی بیرونی مداخلت سے بالاتر ہو کر خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔
دریں اثنا، ایرانی خبر رساں ایجنسی ایس این اے کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے مصری ہم منصب بدر عبدالعاطی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو میں سفارتی امور، جنگ بندی اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
