اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام 'من کی بات' میں اتوار کو گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے اس عالمی مقابلے اور اس میں شامل طالبات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس باوقار مقابلے میں ہندستان کی چار ہونہار طالبات نے حصہ لیا اور تمغے جیت کر تاریخ رقم کی۔
انہیں اس باصلاحیت ٹیم پر بہت فخر ہے، جس میں ممبئی سے شریا مندھرا، ترواننت پورم سے سنجنا چاکو، چنئی سے شیوانی بھرت کمار، اور کولکتہ سے شریموئی بیرا شامل ہیں۔ ہماری ٹیم دنیا میں چھٹے نمبر پر رہی ۔ اس مقابلے میں شریا نے گولڈ میڈل، سنجنا نے سلور اور شیوانی نے کانسہ کا میڈل جیت کر تاریخ رقم کی۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اس اولمپیاڈ کے لئے انتخاب کا عمل انتہائی چیلنجنگ ہے۔ اس میں ایک کثیر مرحلہ انتخابی عمل شامل ہے، جس میں علاقائی، ریاستی اور قومی سطح پر مشکل چیلنجوں پر قابو پانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلباء ایک ماہ تک چلنے والے ریاضی کے تربیتی کیمپ میں حصہ لیتے ہیں۔ اس کیمپ کے اختتام پر ٹیم کے انتخاب کا ٹیسٹ ہوتا ہے، اور ہندوستانی ٹیم کا انتخاب ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
مسٹر مودی نے بتایا کہ ہر سال ملک بھر سے تقریباً 6 لاکھ طالبات ریاضی کے اس اولمپیاڈ پروگرام میں حصہ لیتی ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس اولمپیاڈ کلچر کی مقبولیت پر خوشی کا اظہار کیا اور ان بیٹیوں کی بھرپور حمایت کرنے پر والدین کی بھی ستائش کی۔
وزیرِ اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان بیٹیوں کی کامیابی ملک کی دیگر لاکھوں طالبات کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
