Masarrat
Masarrat Urdu

ہندوستان کے ممتاز فوٹوگرافر رگھو رائے کا 83 سال میں انتقال

Thumb

نئی دہلی، 26 اپریل (مسرت ڈاٹ کام) بھوپال گیس سانحہ کی تصاویر کھینچ کر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے والے معروف فوٹو گرافر اور فوٹو جرنلسٹ رگھو رائے کا اتوار کی صبح ایک نجی ہسپتال میں انتقال ہو گیا۔ ان کی عمر 83 برس تھی۔

مسٹر رائے کے بیٹے اور فوٹو گرافر نتن رائے نے بتایا کہ ان کے والد کو دو سال قبل پروسٹیٹ کینسر ہوا تھا، لیکن بعد میں انہیں راحت ملنے لگی تھی۔ پھر کینسر پیٹ تک پھیل گیا تھا، جو کہ ٹھیک ہو گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں کینسر مسٹر رائے کے دماغ تک پہنچ گیا تھا اور انہیں عمر سے متعلق دیگر طبی مسائل کا بھی سامنا تھا۔

کیمرے کی نظر سے ہندوستان کے متنوع رنگوں اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کرنے والے مسٹر رائے کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ گُرمیت، بیٹا نتن اور تین بیٹیاں لگن، اونی اور پروائی شامل ہیں۔ ان کی آخری رسومات آج شام چار بجے لودھی روڈ شمشان گھاٹ میں ادا کی جائیں گی۔

مسٹر رائے نے بھوپال گیس سانحہ جیسے تاریخی واقعے کو اپنے کیمرے میں قید کیا تھا۔ ان کی کھینچی گئی متاثرین کی تصاویر نے پوری دنیا کی توجہ اس حادثے کی طرف مبذول کرائی تھی۔ انہوں نے 20ویں صدی کی کئی بااثر شخصیات کی زندگی کے انمول لمحات کو بھی محفوظ کیا۔ اندرا گاندھی اور مدر ٹریسا جیسی شخصیات کی ان کی تصاویر آج بھی تاریخی دستاویز سمجھی جاتی ہیں۔ مدر ٹریسا کی زندگی پر ان کی کتاب 'سینٹ مدر' خاص طور پر مشہور ہوئی۔

غیر منقسم پنجاب (موجودہ پاکستان) کے جھنگ میں پیدا ہونے والے رگھو رائے نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز 'دی اسٹیٹس مین' سے کیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی فوٹو جرنلزم کو ایک نئی شناخت دلائی۔

ان کی تصاویر ٹائمز، لائف، دی نیویارک ٹائمز اور نیوز ویک جیسے معتبر جرائد میں شائع ہوئیں۔ جنگ، انتخابات، آفات، گلی کوچوں کی زندگی اور روحانیت ہر موضوع پر ان کی گہری نظر نے دنیا کو ہندوستان کی ایک حساس اور جامع تصویر دکھائی۔

 

Ads