ایال زامیر نے جنوبی لبنان کے مغربی سیکٹر میں 162 ویں ڈویژن کی افواج کا معائنہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران اور لبنان دونوں محاذوں پر فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے منصوبوں کی توثیق کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران میں اہداف تیار ہیں اور اسرائیلی فوج فوری طور پر بھرپور حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل ایران کو جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور دیگر اہم معاملات میں کامیابی حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایال زامیر کے مطابق اسرائیلی فوج مختلف محاذوں پر حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ اب تک 1700 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان کے شہر بنت جبیل میں فوجی آپریشن جاری ہے اور دریائے لیطانی تک کے علاقے میں کارروائیوں کو وسعت دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاری جاری ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور آئندہ دنوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ادھر امریکہ نے حال ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد پہلی براہِ راست بات چیت کی میزبانی کی، تاہم اسرائیل نے ان مذاکرات میں جنگ بندی پر غور کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
