یہ بات ایران کے پارلیمانی کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے رکن علاء الدین بروجردی نے اتوار کے روز کہی. ایرانی پارلیمنٹ کی ایجنسی خانی ملت نے مسٹر بروجردی کے حوالے سے کہا کہ "اگرچہ یہ جنگ مہینوں یا سالوں تک جاری رہے، ایران کو اپنے میزائل اور اسٹریٹجک ذخائر سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔"
رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ فوجی آپریشنز کے دوران کئی شعبوں میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ پوری دنیا کے سامنے کر کے ثابت کیا ہے کہ اس کی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوجوں میں سے ایک ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے متعدد اہداف پر حملے کیے تھے۔ جس کی وجہ سے کافی نقصان ہوا اور شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی سرزمین اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی اڈوں پر حملہ کیا۔
