انہوں نے نیتن یاہو حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے ریاست نے اپنی سکیورٹی لبنان کے حوالے کر دی ہو اور مقامی آبادی کو مکمل طور پر تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔
کیرت شمونہ کے میئر نے بھی سنگین صورتحال کی تصدیق کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کا شہر تیزی سے بھوت بنگلے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق شہر کی دو تہائی آبادی اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکی ہے۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بقیہ لوگ بھی نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے شمالی سرحد پر اسرائیلی کنٹرول علامتی رہ جائے گا۔ماہرینِ سیاسیات کا کہنا ہے کہ شمالی اسرائیل میں پیدا ہونے والی یہ بے چینی صرف جذباتی نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مقامی کونسل کے سربراہان کا متفقہ طور پر کہنا ہے کہ حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے محض بلند بانگ دعوے کر رہی ہے، جبکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
