وزیر خزانہ نے ایندھن کی قلت کے باعث ملک میں کووڈ کی وبا جیسے لاک ڈاؤن کے نفاذ کی افواہوں کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور لاک ڈاؤن جیسا کچھ نہیں ہوگا۔ محترمہ سیتا رمن نے ڈیزل اور پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں دس دس روپے کی کٹوتی کے تازہ فیصلے کے بارے میں کہا، "وزیراعظم چاہتے تھے کہ صارفین کے لیے قیمتیں نہ بڑھیں۔" انہوں نے ایندھن پر ڈیوٹی میں کمی کے اس اقدام کو سراہا۔
لاک ڈاؤن کے چرچوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہوں کہ کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہوگا... مجھے حیرت ہے کہ کچھ رہنما کہہ رہے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہوگا اور ایندھن کی قلت ہو جائے گی۔ یہ باتیں بے بنیاد ہیں۔" محترمہ سیتا رمن نے مزید کہا کہ سیاسی حلقوں سے وابستہ افراد کی جانب سے لاک ڈاؤن جیسی تبصرہ آرائیاں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے واضح کیا، "ویسا کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہوگا جیسا ہم نے کووڈ کے دوران دیکھا تھا۔"
پیٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی پر انہوں نے کہا، "مغربی ایشیا میں جاری تنازع کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزیراعظم نے ایک میٹنگ کی جس میں یہ طے پایا کہ پیٹرول، ڈیزل اور اے ٹی ایف (ہوائی جہاز کے ایندھن) کی کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے اور عالمی صورتحال کی وجہ سے ان کی قیمتیں نہیں بڑھنی چاہئیں۔ آج ہم نے ایک فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ہم تیل کی مارکیٹنگ کرنے والی تمام کمپنیوں کی مدد کریں گے تاکہ وہ خام مال درآمد کر سکیں اور عام لوگوں کو قیمتوں میں کسی اضافے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ پیٹرول یا ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہ ہو۔ یہاں تک کہ اے ٹی ایف کے لیے بھی ہم یہ پکا کر رہے ہیں کہ قیمتیں اوپر نہ جائیں۔"
محترمہ سیتا رمن نے بتایا، "وزیراعظم کا ایک اور فیصلہ یہ ہے کہ وہ ریفائنریاں جو باہر سے خام مال منگوا کر یہاں ریفائن کرتی ہیں اور پھر اسے برآمد کر دیتی ہیں، انہیں اب زیادہ ڈیوٹی دینا ہوگی تاکہ یہ خام مال ہماری مقامی مارکیٹ کے لیے دستیاب رہے اور باہر نہ بھیجا جائے۔"
