جنیوا میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے عالمی برادری کو بتایا کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران دو مرتبہ مذاکرات کے عمل کو جان بوجھ کر سبوتاژ کیا گیا۔
ایران کے شہر میناب میں اسکول کی بچیوں کا قتل عام کیا گیا، جس کا کوئی بھی اخلاقی یا جنگی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں امریکہ اور اسرائیل کو براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا"اسکول پر حملہ امریکی اور اسرائیلی جرائم کی واحد مثال نہیں، یہ طاقتیں نہتے عوام پر بلا تفریق بمباری کر رہی ہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ رہائشی علاقوں، تیل کی تنصیبات اور پانی کے ذخائر کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور لبنان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی ضمیر کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔
عباس عراقچی نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے ان جرائم پر اسرائیل اور امریکہ سے جواب طلبی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے دفاع اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
