Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ-ایران کے جوہری مذاکرات،پیش رفت کا اعلان

  • 27 Feb 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

جنیوا، 27 فروری (مسرت ڈاٹ کام) امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت جمعرات کو ممکنہ فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ گئی ہے ۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی نمائندگان اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر نے عمان کی ثالثی میں کئی گھنٹوں تک بالواسطہ مذاکرات کیے، جنہیں دونوں فریقوں نے سنجیدہ مگر نامکمل قرار دیا۔

عمان کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات کے تیسرے مرحلے کا اختتام قابلِ قدر پیش رفت کے ساتھ ہوا اور تکنیکی گفتگو اگلے ہفتے ویانا میں ہو گی۔

بدر البوسعیدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہم نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نمایاں پیش رفت دیکھی ہے جبکہ تکنیکی سطح پر گفتگو اگلے ہفتے ویانا میں ہو گی۔

ایک سینئر ایرانی اہلکار نے کہا کہ اگر واشنگٹن جوہری امور کو دیگر تنازعات سے الگ کرے جن میں بیلسٹک میزائل اور تہران کی علاقائی حمایتیں شامل ہیں تو معاہدہ دسترس میں ہو سکتا ہے ۔

 

یہ بات چیت اس دباؤ کے پس منظر میں ہو رہی ہیں جو ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بڑھ رہا ہے،جنہوں نے ایران کو کہا ہے کہ وہ جلدی معاہدہ کرے ورنہ نتائج بھگتنا ہوں گے۔

واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر بند کر دے کیونکہ یہ صلاحیت جوہری ہتھیاروں کی ترقی ممکن بنا سکتی ہے۔

ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ بم چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ پابندیوں میں نرمی اور پرامن افزودگی کے حق کے اعتراف کے بدلے رعایتیں دینے کے لیے تیار ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کا اپنا میزائل پروگرام زیرِ بحث لانے سے انکار ایک بڑا رکاوٹ ہے، جبکہ ایرانی حکام اصرار کرتے ہیں کہ مذاکرات صرف جوہری معاملات اور پابندیوں پر مرکوز ہونے چاہئیں۔

یہ سفارتی کوششیں اس خدشے کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں کہ تنازعہ وسیع ہوسکتا ہے۔ امریکہ نے خطے میں اضافی فضائی اور بحری اثاثے تعینات کیے ہیں، جن میں طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر۔ فورڈ شامل ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئی حملے کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرے گا۔

 

Ads