راؤز ایونیو عدالت کے خصوصی جج جیتندر سنگھ نے اس مقدمے میں سابق وزیر اعلیٰ کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلیٰ سسودیا سمیت تمام 23 ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت نے جن دیگر اہم شخصیات کو الزام سے آزاد کیا ہے، ان میں بھارت راشٹریہ سمیتی (بی آر ایس) کی رہنما کے. کویتا، وجے نائر، سمیر مہندرو اور دیگر شامل ہیں۔
یہ مقدمہ 2021-22 کی دہلی ایکسائز پالیسی سے متعلق تھا، جسے بعد میں بے ضابطگیوں کے الزامات کے باعث واپس لے لیا گیا تھا۔ مرکزی تحقیقاتی بیورو (سی بی آئی) کا الزام تھا کہ اس پالیسی کے ذریعے نجی اداروں کو ناجائز فائدہ پہنچایا گیا۔
مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے جمعہ کو دہلی ایکسائز پالیسی معاملے میں سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال اور سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کو بری کرنے کے نچلی عدالت کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سی بی آئی کا یہ فیصلہ یہاں کی راؤس ایونیو عدالت کے مسٹر کیجریوال، مسٹر سسودیا اور 21 دیگر ملزمان کو ایکسائز پالیسی سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں بری کرنے کے بعد آیا ہے۔ خصوصی جج جتیندر سنگھ نے چارج شیٹ میں نامزد کسی بھی شخص کے خلاف الزام طے کرنے سے انکار کردیا تھا۔سی بی آئی کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ نچلی عدالت نے ان کی تحقیقات کے کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے۔ اس کے پیش نظر سی بی آئی اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرے گی۔
قبل ازیں عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سی بی آئی نے ان سینئر لیڈروں کو بغیر کسی "ٹھوس مواد" کے ملزم بنایا۔ عدالت نے چارج شیٹ میں کئی خامیوں کی نشاندہی کی۔ عدالت نے واضح طور پر کہا گیا کہ مسٹر سسودیا کے خلاف پہلی نظر میں کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے اور مسٹر کیجریوال کو خاطر خواہ ثبوت کے بغیرمعاملے میں شامل کیا گیا تھا۔ عدالت نے تحقیقات میں کوتاہیوں پر تفتیشی ایجنسی کی سرزنش بھی کی۔عدالت کے فیصلے کے بعد مسٹر کیجریوال نے عدلیہ پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس معاملے کو اپنی پارٹی کو کمزور کرنے کی ایک ’’سیاسی سازش‘‘ قرار دیا۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ یہ فیصلہ آئین اور قانون کی حکمرانی میں ان کے اعتماد کی تصدیق کرتا ہے
