عدالت سے بری ہونے کے بعد پریس کانفرنس میں کیجریوال نے کہا کہ انہیں سازش کے تحت جیل بھیجا گیا اور ان کی پارٹی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا، "ہم وزیرِ اعظم سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ جیل بھیج کر یا سازش کر کے کیجریوال کو ختم نہیں کر سکتے۔ اب آپ کے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ کیجریوال کا قتل کرا دیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر وہ انہیں ختم کرنا چاہتے ہیں تو ان کی طرح سینکڑوں اسکول اور محلہ کلینک بنوائیں تاکہ ملک ترقی کر سکے۔
انہوں نے کہا، "میں وزیرِ اعظم کو چیلنج دیتا ہوں کہ وہ آج دہلی میں انتخابات کرا لیں اگر ان کی پارٹی کو دس سے زیادہ نشستیں مل جائیں تو ہم سیاست چھوڑ دیں گے۔" انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے گزشتہ ایک سال میں دہلی کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور اسکولوں سے لے کر صحت کی خدمات تک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔
کیجریوال نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ روزانہ وزیرِ اعظم کے خلاف بیانات دیتے ہیں لیکن ہمارے وزیرِ اعظم میں جواب دینے کی ہمت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ مقدمہ چلانے کے لیے بھی خاطر خواہ ثبوت موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق، "عدالت نے کہا کہ ایک بھی ٹھوس گواہ یا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ معاملہ اتنا فرضی تھا کہ ٹرائل چلانے کی بنیاد تک نہیں بنی۔" انہوں نے اپنے وکلا خصوصاً سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی سمیت پوری قانونی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔
کیجریوال نے کہا، "میری زندگی کی سب سے بڑی کمائی ایمانداری ہے۔ جب کوئی مجھے بے ایمان کہتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے۔ عدالت کے حکم سے ثابت ہو گیا کہ میں اور میری پارٹی پکے ایماندار ہیں۔ آج میرے دل سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ جیل سے باہر آنے کے بعد ان کے غائب ہونے کی باتیں کی جاتی رہیں لیکن وہ خود کو محض ایک سیاست دان نہیں سمجھتے، اسی لیے وہ خاموش رہے کیونکہ انہیں فرق پڑتا ہے۔ عدالت کے فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا معاملہ ایک سازش تھا۔
قابلِ ذکر ہے کہ مبینہ شراب گھپلہ معاملے میں دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے سابق وزیرِ اعلیٰ کیجریوال اور سابق نائب وزیرِ اعلیٰ منیش سسودیا سمیت دیگر 23 ملزمان کو آج بری کر دیا ہے۔
