Masarrat
Masarrat Urdu

امریکہ–ہندوستان عبوری تجارتی معاہدہ:زرعی اشیا پر مراعات کے تعلق سے وائٹ ہاؤس کی ترمیم شدہ فیکٹ شیٹ سے الجھن میں اضافہ

Thumb

نئی دہلی، 11 فروری (مسرت ڈاٹ کام) امریکہ اور ہندوستان کے درمیان حالیہ عبوری تجارتی معاہدے نے جہاں معاشی تعاون کی نئی راہیں کھولی ہیں، وہیں وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ترمیمی دستاویزات نے کئی نئے سوالات اور ابہام پیدا کر دیے ہیں۔ خاص طور پر زرعی مصنوعات اور درآمدی وعدوں سے متعلق الفاظ کی تبدیلی نے ہندوستانی کسانوں اور ماہرینِ اقتصادیات میں الجھن پیداکردی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عالمی تجارتی مفادات اور ملک کی حساس سیاسی نوعیت کے درمیان توازن برقرار رکھنا دونوں ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ہونے والے عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق اپنی فیکٹ شیٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے زرعی مصنوعات اور ہندوستان کی جانب سے امریکی اشیا خریدنے کے عزم سے متعلق زبان میں تبدیلی کی ہے۔ ان تبدیلیوں نے پہلے سے موجود الجھنوں اور خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، بالخصوص ہندوستان کے کسانوں میں، جنہوں نے پہلے ہی اس معاہدے کے دائرہ کار اور اثرات پر سوالات اٹھائے تھے۔

ترمیم شدہ بیان میں، امریکہ نے زرعی مصنوعات کی اس فہرست سے ’’دالوں‘‘ کا حوالہ حذف کر دیا ہے۔ اس سے قبل 9 فروری کو جاری کردہ ورژن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان ’’کچھ مخصوص دالوں‘‘ سمیت کئی امریکی غذائی اور زرعی مصنوعات پر ٹیرف ختم یا کم کر دے گا۔ ایک دن بعد جاری اپ ڈیٹ ورژن سے یہ بات حذف کر دی گئی۔

اس تبدیلی کے بعد امریکی سامان کی خریداری سے متعلق مؤقف کو نرم انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پہلے کہا گیا تھا کہ ہندوستان 500 بلین ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی مصنوعات خریدنے کا ’’عہد‘‘ کرتا ہے۔ اب نئے ورژن میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان 500 بلین ڈالر مالیت کی امریکی توانائی، آئی ٹی، کوئلہ اور دیگر سامان خریدنے کا ’’ارادہ‘‘ رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تبدیلی سفارتی لحاظ سے کافی اہم ہے۔

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق، ہندوستان دنیا میں دالوں کا سب سے بڑا صارف ہے جو عالمی مانگ کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ استعمال کرتا ہے۔ چونکہ دالیں سیاسی طور پرایک حساس زرعی مصنوعات ہیں، اس لیے ہندوستانی کسان تنظیموں نے معاہدے میں وضاحت کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستانی کسان تنظیموں نے معاہدے میں وضاحت کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کسان تنظیموں کے مشترکہ ادارے ’سنیُکت کسان مورچہ‘ نے اس تجارتی معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اس سے مقامی زراعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستانی حکومت نے زرعی شعبے کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ وزیر تجارت پیوش گوئل نے بارہا کہا ہے کہ ڈیری اور پولٹری جیسی حساس زرعی مصنوعات کو تجارتی مذاکرات سے باہر رکھا گیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت اور مقامی سیاسی حساسیت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ہندوستان پر ملے جلے اثرات مرتب ہوں گے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ ٹیرف میں کمی سے ملبوسات اور فرنیچر کے شعبوں میں، ہندوستانی مینوفیکچررز کو برآمدات میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، امریکی درآمدات سے بڑھتا ہوا مقابلہ مقامی شعبوں، بشمول شراب کی صنعت کو متاثر کر سکتا ہے۔ 500 بلین ڈالر کی خریداری کی تجویز نے طویل مدتی مالی ذمہ داریوں سے متعلق خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مہینوں کے تناؤ بھرے مذاکرات کے بعد ہوا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم مودی سے بات چیت کے بعد اس معاہدے کا اعلان کیا، جس میں ہندوستانی مصنوعات پر ٹیرف کو 25 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکہ نے روسی تیل خریدنے پر ہندوستان پرجرمانہ کے طورپر عائد 25 فیصد ڈیوٹی بھی اس یقین دہانی کے بعد ختم کر دی کہ ہندوستان ایسی درآمدات میں کمی لائے گا۔

سیاسی سطح پر بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی گئی ہے۔ ایک جانب ٹرمپ نے وزیر اعظم مودی کو اپنا دوست قرار دیا، تو دوسری جانب انہوں نے ہندوستان کے تجارتی تحفظاتی اقدامات اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات پر تنقید بھی کی ہے۔ سفارتی تناؤ اس وقت مزید بڑھ گیا تھا جب ٹرمپ نے گزشتہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروانے کا سہرا اپنے سرباندھا تھا، جس دعوے کو ہندوستانی حکام نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

مجموعی طور پر، اگرچہ یہ عبوری تجارتی معاہدہ امریکہ اور ہندوستان کے اقتصادی تعلقات میں پیش رفت کی علامت ہے، لیکن ترمیمی فیکٹ شیٹ اور تبدیل شدہ زبان تجارتی عزائم اور مقامی سیاسی و معاشی حساسیت کے درمیان توازن قائم کرنے کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے۔

 

Ads