مسٹر ہردیپ سنگھ پوری نے یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس معاملے میں غیر ضروری تنازعہ برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بے بنیاد الزامات لگانا مسٹر راہل گاندھی کی عادت بن چکی ہے۔ ان کی سیاسی بیان بازی میں "تفریحی عنصر" زیادہ عیاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایپسٹین فائل سے متعلق بہت سارے دستاویزات پہلے ہی پبلک ڈومین میں ہیں، اور تقریباً 3 ملین ای میل جاری کیے گئے ہیں۔
مسٹر ہردیپ سنگھ پوری نے واضح کیا کہ انہوں نے مئی 2009 سے آٹھ سال تک نیویارک میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے کے طور پر خدمات انجام دیں، اور وہ 2017 میں وزیر بنے ہیں۔ اس عرصے کے دوران، انہوں نے بین الاقوامی میٹنگوں اور تقریبات میں متعدد عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں ایپسٹین کے ساتھ تین یا چار ملاقاتیں بھی شامل تھیں۔
مسٹر ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ فارن سروس سے ریٹائر ہونے کے فوراً بعد انہیں انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) میں شامل ہونے کی دعوت ملی تھی۔ انہوں نے ایپسٹین سے اپنے پروگراموں کے دوران یا کسی وفد کے حصہ کے طور پر ملاقات کی اور یہ محض بین الاقوامی مسائل سے متعلق پروگراموں کا حصہ تھی۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اس وقت ان کا بنیادی رابطہ لنکڈان (LinkedIn) کے شریک بانی ریڈ ہافمین سے تھا، جن کو انہوں نے ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی۔ مسٹر ہردیپ سنگھ پوری نے مزید کہا کہ ایپسٹین کے جزیرے سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں کو پس منظر سے ہٹ کر پیش کرنا نامناسب اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے مسٹر راہل گاندھی کو حقائق پر مبنی سیاست کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے سامنے درست معلومات پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں دو طرح کے لیڈر ہیں۔ ایک مسٹر راہل گاندھی کی طرح، اور دوسرے جو سیاسی نظام میں ذمہ داری لیتے ہیں اور اپنی زندگی سماجی خدمت اور ملک کو بدلنے کے لیے وقف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قیادت کی وجہ سے ہی ہندوستان تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
