Masarrat
Masarrat Urdu

عراق ؛ اندرونی معاملات میں امریکی صدر کی مداخلت پسندانہ بیان پر شدید رد عمل

Thumb

بغداد، 29 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) عراق کے حکومت قانون اتحاد کے سربراہ نے عراق کے اندرونی معاملات میں امریکی صدر ٹرمپ کے مداخلت پسندانہ بیان پر ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ اس ملک کی مجلس اعلای اسلامی نے بھی کہا ہے کہ وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ اندرونی معاملہ ہے اور اسے قانونی طریقہ کار اور عراق کے اعلی ترین مفادات کی بنیاد پر انجام دیا جائے گا۔یہ اطلاع سحر ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں دی۔

عراق سے موصولہ رپورٹ کے مطابق عراق کے حکومت قانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے عراق کے اندرونی معاملات میں امریکہ کی واضح مداخلت پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم عراق کے اندرونی معاملات میں کھلی امریکی مداخلت کی سخت مخالفت کا اعلان کرتے ہیں اور اسے عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور وزیر اعظم کے عہدے کے لیے امیدوار کے انتخاب میں کوآرڈينیشن فریم ورک کے فیصلے کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

المالکی نے زور دیا کہ ممالک کے درمیان بات چیت کی زبان ہی باہمی روابط کا واحد سیاسی آپشن ہے، نہ کہ ڈکٹیشن اور دھمکیوں کے ذریعے کسی ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا-

عراق کی قانون حکومت اتحاد کے سربراہ نے زور دے کر کہا کہ میں قومی ارادے اور رابطہ کاری کے فریم ورک کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عراقی عوام کے اعلی ترین مفادات کے لئے کام کرتا رہوں گا

عراق کے لیے کوآرڈينیشن فریم ورک کے امیدوار کا یہ موقف نوری المالکی کی وزارت عظمی کے تعلق سے ٹرمپ کے ویٹو کے بیان کے بارے میں ہے.

دوسری جانب عراق کے مستقبل کے وزیر اعظم کے انتخاب کے حوالے سے امریکی صدر کے مداخلت پسندانہ بیانات کے بعد اس ملک کی مجلس اعلای اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم کے انتخاب کا معاملہ اندرونی معاملہ ہے اور اسے قانونی طریقہ کار اور عراق کے اعلی ترین مفادات کی بنیاد پر انجام دیا جائے گا۔

ہمام حمودی کی سربراہی میں عراقی اسلامی سپریم کونسل نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم کا انتخاب ایک مکمل عراق کا قانونی مسئلہ ہے، جو آئین کی دفعات اور سیاسی عمل کے طریقہ کار کے مطابق انجام پاتا ہے، اور اس روش کے ذریعے کہ جس سے قومی سلامتی کے تحفظ اور اس کے اعلی مفادات کی حفاظت کا کام انجام دیا جاتا ہے-

عراق کی مجلس اعلای اسلامی کے ترجمان علی الدفاعی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ تنظیم بین الاقوامی برادری کے ساتھ باہمی احترام اور اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی بنیاد پر مثبت اور متوازن روابط قائم کرنے کی خواہشمند ہے-

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق ایک ایسا ملک ہے جس میں مستحکم بنیادوں پر قائم ادارے اپنے بنیادی اور سیاسی مسائل کو آزادانہ قومی عزم و ارادے کے ساتھ اس طریق سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو عراقی عوام کے نمائندوں کے انتخاب کا مظہر ہو-

شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک اتحاد کی قیادت نے بدھ کی شام کو حکومتی اتحاد کے سربراہ اور مستقبل کے عراقی وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نوری المالکی کے دفتر میں ایک ہنگامی اجلاس کے انعقاد کی خبر دی ہے

نوری المالکی دوہزار چھ سے دوہزار چودہ تک دو مرتبہ عراق کے وزیراعظم رہ چکے ہیں-

Ads