Masarrat
Masarrat Urdu

پی او کے میں شکسگام وادی ہماری، سڑک تعمیر ہمارا حق: چین

Thumb

بیجنگ/نئی دہلی، 12 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) چین نے پیر کو پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں شکسگام وادی پر اپنے دعوے کو دہراتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ چین کا ہے اور چین کو اپنے علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا پورا حق حاصل ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں ایک سرحدی معاہدہ کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان سرحد طے کی گئی تھی، جو خودمختار ممالک کے طور پر چین اور پاکستان کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان سرحدی معاہدہ اور چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کشمیر پر بیجنگ کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے، جو بدستور غیر متبدل ہے۔

شکسگام وادی، یا ٹرانس قراقرم ٹریکٹ، پی او کے کے ہنزہ-گلگت علاقے کا حصہ ہے اور پاکستان کے قبضے میں موجود ہندوستانی علاقہ ہے۔ اس کی سرحد شمال میں چین کے سنکیانگ صوبے، جنوب اور مغرب میں پی او کے کے شمالی علاقوں اور مشرق میں سیاچن گلیشیئر علاقے سے ملتی ہے۔ اسے 1963 میں پاکستان نے چین کو دے دیا تھا، جب دونوں ممالک نے ایک سرحدی معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے نے قراقرم شاہراہ کی بنیاد رکھی، جسے 1970 کی دہائی میں چینی اور پاکستانی انجینئروں نے مل کر تعمیر کیا تھا۔

خبروں کے مطابق چین شکسگام وادی میں ایک سڑک بنا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق 75 کلومیٹر طویل سڑک پہلے ہی مکمل ہو چکی ہے۔ ہندوستان نے 10 جنوری کو سڑک کی تعمیراتی سرگرمی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اسٹریٹجک طور پر حساس ہندوستانی علاقہ ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جائسوال نے جمعہ کو کہا تھا کہ ہندوستان نے 1963 کے نام ونہاد چین-پاکستان "سرحدی معاہدے" کو کبھی تسلیم نہیں کیا، جس کے تحت پاکستان نے غیر قانونی طور پر شکسگام وادی کو چین کو دے دیا تھا۔

جیسوال نے کہاکہ "شکسگام وادی ہندوستانی علاقہ ہے۔ ہم نے 1963 میں ہونے والے نام ونہاد چین-پاکستان 'سرحدی معاہدے' کو کبھی تسلیم نہیں کیا ہے۔ ہم نے مسلسل کہا ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی اور ناقابلِ قبول ہے۔" چینی ترجمان ہندوستان کی سڑک تعمیر پر اعتراض پر تبصرہ کر رہی تھیں۔

محترمہ ماؤ نِنگ نے کہاکہ "یہ علاقہ چین کا ہے۔ چین کو اپنے علاقے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا پورا حق ہے۔ سی پیک ایک اقتصادی تعاون کی پہل ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور عوام کی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔" انہوں نے کہا کہ چین-پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے، اور یہ مؤقف غیر متبدل ہے۔

 

Ads