ممبئی 11جنوری( مسرت ڈاٹ کام) ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، سیاسی، تعلیمی اور ثقافتی زندگی میں اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات کی 2025 کی فہرست منظر عام پر آ گئی ہے، جس میں فلم، سیاست، مذہب، تعلیم، صنعت اور سول سوسائٹی سے وابستہ کئی اہم نام شامل کیے گئے ہیں۔ اس فہرست میں ممبئی سے عالمی شہرت یافتہ فلمی ستارے شاہ رخ خان اور عامر خان، اسلام جمخانہ کے صدر ایڈوکیٹ یوسف محمد ابراہانی اور انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر اسحاق قاضی کو شامل کیا جانا خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔
یہ فہرست اس بات کی غماز ہے کہ ہندوستانی مسلمان محض کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ قومی زندگی کے ہر اہم میدان میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنی خدمات کے ذریعے ملک کی جمہوری اور تکثیری شناخت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
فہرست میں شامل عامر خان کو ہندوستانی سنیما کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ لگان، رنگ دے بسنتی، تارے زمین پر، تھری ایڈیٹس اور دنگل جیسی فلموں کے ذریعے انہوں نے سماجی شعور، تعلیم اور قومی مکالمے کو نئی سمت دی۔ ان کا ٹی وی پروگرام ستیہ میو جیتے سماجی اصلاح کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل مانا جاتا ہے۔ حکومت ہند انہیں پدم شری اور پدم بھوشن جیسے اعزازات سے نواز چکی ہے۔
اسی طرح شاہ رخ خان، جنہیں دنیا بھر میں کنگ خان کے نام سے جانا جاتا ہے، تین دہائیوں سے زائد عرصے سے ہندوستانی سنیما کا سب سے بڑا اور مقبول چہرہ ہیں۔ دل والے دلہنیا لے جائیں گے سے لے کر چک دے انڈیا اور مائی نیم از خان تک، ان کی فلموں نے سماجی ہم آہنگی، حب الوطنی اور انسانی اقدار کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کی عالمی مقبولیت نے ہندوستانی مسلمانوں کی ایک مثبت اور باوقار شناخت قائم کی ہے۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ یوسف محمد ابراہانی، جو ایک سینئر قانون داں، سابق رکن اسمبلی اور دو مرتبہ منتخب میونسپل کارپوریٹر رہ چکے ہیں، اس وقت اسلام جمخانہ کے صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بمبئی ہائی کورٹ میں ان کی وکالت، مہاڈا(MHADA )کے چیئرمین کے طور پر ان کا تجربہ اور شہری مسائل پر ان کی مضبوط گرفت انہیں ایک بااثر سماجی و عوامی شخصیت بناتی ہے۔جب کہ ڈاکٹر ظہیر اسحاق قاضی، انجمن اسلام کے صدر، تعلیم اور طب کے میدان میں ایک معتبر نام ہیں۔ ان کی قیادت میں انجمن اسلام نے تعلیمی اداروں کی توسیع، خواتین کو قیادت میں شامل کرنے اور ادارہ جاتی استحکام جیسے اہم اقدامات کیے۔ قومی تعلیمی پالیسی سے متعلق کمیٹیوں میں ان کا کردار بھی نمایاں رہا ہے۔
اس فہرست میں ملک کے سرکردہ مذہبی رہنماؤں کے نام بھی شامل ہیں جن میں مولانا ارشد مدنی (صدر جمعیت علمائے ہند) اور مولانا محمود مدنی (سربراہ جمعیت علمائے ہند، مدنی گروپ) قابل ذکر ہیں۔ مولانا ارشد مدنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اقلیتی حقوق اور دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے افراد کی قانونی مدد کے لیے جانے جاتے ہیں، جبکہ مولانا محمود مدنی مسلم حقوق اور آئینی قدروں کے تحفظ کی ایک مضبوط آواز سمجھے جاتے ہیں۔جبکہ بوہرہ رہنما مفضل ،اسکالر اختر الواسع ،کشمیر کے ایم ی رشید انجنیئر اور آغامہدی ،راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین رحمان خان بھی شامل ہیں،موسیقار سے آر رحمان کانام بھی نمایاں طورپر ہے۔
کیرالہ سے تعلق رکھنے والے معروف روحانی رہنما کنتھا پورم اے پی ابو بکر مصلیار اور تبلیغی جماعت کے رہنما محمد سعد کاندھلوی کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
سیاسی میدان میں سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف رہ چکے غلام نبی آزاداور محبوبہ مفتی کو فہرست میں جگہ دی گئی ہے۔ سول سوسائٹی کے میدان میں نوید حامد، سابق صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، آئینی جدوجہد اور مکالمے کی نمائندہ آواز کے طور پر نمایاں ہیں، جبکہ صنعت کے شعبے میں فیروز الانہ، ا گروپ کے ذریعے عالمی سطح پر ہندوستانی کاروبار کی شناخت بن چکے ہیں۔
نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہوئے اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کا نام بھی شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے سماجی موضوعات پر اظہارِ خیال کے ذریعے نوجوانوں میں خاصی مقبولیت حاصل کی ہے
مجموعی طور پر 2025 کی یہ فہرست اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ ہندوستانی مسلمان معاشرہ فکری، سماجی اور پیشہ ورانہ طور پر متحرک ہے۔ ان شخصیات کی موجودگی نہ صرف مسلم معاشرے کے تنوع کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ہندوستان کی جمہوری، سیکولر اور تکثیری روح کو بھی تقویت دیتی ہے۔
