Masarrat
Masarrat Urdu

آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے اعلیٰ سطحی وفد کی اجیت ڈووال سے ملاقات

Thumb

آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی ملک گیر مہم''میرا ملک، میری پہچان'' نعرہ کا اعلان

نئی دہلی، 11 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کی جانب سے آج ''ملک میں امن کے فروغ'' کے عنوان سے ایک اہم پریس میٹ منعقد کی گئی، جس میں ملک میں اتحاد، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر کونسل نے ''میرا ملک، میری پہچان'' کے نعرے کے ساتھ ایک ملک گیر عوامی بیداری مہم شروع کرنے کا اعلان کیا۔

پریس میٹ سے قبل آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت کونسل کے چیئرمین حضرت سید نصیرالدین چشتی نے کی، جو درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین کے جانشین ہیں۔ ملاقات کے دوران ملک میں امن، اتحاد اور ہمہ گیر قوم پرستی کے فروغ میں تصوف کے کردار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے حضرت سید نصیرالدین چشتی نے کہا کہ موجودہ سماجی و سیاسی حالات میں امن اور قومی یکجہتی کا تحفظ حکومت کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی روایت محبت، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام دیتی ہے، جو صدیوں سے ہندوستان کی تکثیری تہذیب کی بنیاد رہی ہے اور آج بھی انتہا پسندی کے خلاف ایک مضبوط قوت ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ''میرا ملک، میری پہچان''مہم کے تحت آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل ملک کی ہر ریاست اور شہر میں جا کر امن، آئینی اقدار، قومی اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عام کرے گی۔ انہوں نے دہلی میں کونسل کے ہیڈکوارٹر کے قیام کو صوفی اداروں اور درگاہوں کی ایک مشترکہ قومی آواز قرار دیا۔

حضرت چشتی نے مزید کہا کہ آج ہندستان کو عالمی سطح پر، خصوصاً مسلم ممالک میں، عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں تمام مذاہب اور برادریوں کو مساوی احترام حاصل ہے۔ یہ حقیقت ان عناصر کے لیے ایک مؤثر جواب ہے جو ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانے اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

درگاہ فتح پوری سیکری، آگرہ کے سجادہ نشین اور آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کے نائب صدر ارشد فریدی نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ حالات کے تناظر میں صوفی ازم کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوفی ازم محبت، امن، رواداری اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے، جو سماج میں بڑھتی ہوئی نفرت اور تقسیم کو ختم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوفی سنتوں اور بزرگوں نے ہمیشہ انسانیت، اخوت اور مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا ہے، جسے آج کے دور میں اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سجادہ نشین ارشد فریدی نے مزیدکہا کہ صوفی روایت ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہے اور یہ ملک میں امن و امان کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف جاری ظلم و زیادتی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ مذہبی آزادی کے اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں صوفیوں اور صوفی روایت سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجود ہے، اس کے باوجود اقلیتوں کو نشانہ بنایا جانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

اس پریس میٹ میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 25 سے زائد ممتاز سجادہ نشینوں اور صوفی علماء نے شرکت کی اور امن، اتحاد اور قومی ہم آہنگی کے لیے اپنے مضبوط اجتماعی عزم کا اظہار کیا۔ نمایاں شرکاء میں حضرت سید فرید احمد نظامی ،درگاہ حضرت نظام الدین،علی شاہ ،درگاہ کلیر شریف،نیر میاں ،درگاہ رادولی شریف، اتر پردیش،ڈاکٹر حبیب الرحمن نیازی درگاہ، جے پور،محتشم علی درگاہ ابو اللہ، آگرہ ،علی ذکی حسینی، درگاہ گلبرگہ،حضرت سید عبدالقادر قادری ، نیشنل کوآرڈینیٹر، آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل،غلام نجمی فاروقی، نیشنل سیکریٹری، آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل شامل تھے۔

اس موقع پر آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل نے میڈیا برادری کا شکریہ ادا کیا اور اپیل کی کہ وہ امن، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے پیغام کو عام کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہے۔

 

Ads