انہوں نے کہا کہ سومنات میں وراجمان مہادیو کا ایک نام مرتیونجئے بھی ہے، مرتیونجئے، یعنی وہ جس نے موت پر فتح پا لی ہو، جو خود کال کی صورت ہے، ہم مانتے ہیں کہ تم ہی واحد ہو جو پوری کائنات میں پھیلے ہوئے ہو، تمہارا روپ کائنات ہے۔ یعنی شِیو پوری کائنات میں موجود ہیں۔ اسی لیے ہم ذرّہ ذرّہ، کنکر کنکر میں بھی اسی شنکر کو دیکھتے ہیں۔ پھر کوئی شنکر کی مختلف صورتوں کو کیسے مٹا سکتا تھا؟ ہم تو وہ لوگ ہیں جو ہر جاندار میں بھی شِیو کو دیکھتے ہیں! پھر کوئی ہماری عقیدت کو کیسے متزلزل کر سکتا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ وقت کا پہیہ ہے کہ سومناتھ کو تباہ کرنے کی نیت سے آنے والے مذہبی دہشت گرد آج تاریخ کے چند صفحات تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ سومناتھ مندر اسی عظیم سمندر کے کنارے بلند و بالا مذہبی پرچم تھامے کھڑا ہے۔ سومناتھ کا یہ شِکھر گویا یہ اعلان کر رہا ہے: میں چندرشیکھر شیو کی پناہ میں ہوں، موت میرا کیا بگاڑ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ ’سومنات سوابھیمان پرو‘ نہ صرف تاریخ کے فخر کا تہوار ہے، بلکہ یہ ایک لازوال سفر کو مستقبل کے لیے زندہ رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں اس موقع کو اپنے وجود اور شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ اگر کسی ملک کے پاس چند سو سال پرانی وراثت بھی ہو تو وہ ملک اسے اپنی شناخت بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ جبکہ ہندوستان کے پاس سومناتھ جیسے ہزاروں سال پرانے مقامات موجود ہیں۔ یہ مقامات ہماری طاقت، مزاحمت اور روایت کی علامت رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آزادی کے بعد غلامانہ ذہنیت رکھنے والوں نے ان سے کنارہ کشی کی کوشش کی۔ اس تاریخ کو بھلانے کی مذموم کوششیں کی گئیں۔
ہم جانتے ہیں کہ سومناتھ کی حفاظت کے لیے ملک نے کیسی کیسی قربانیاں دی تھیں۔
راول کانھڑ دیو جیسے حکمرانوں کی کوششیں، ویر ہمیر جی گوہل کی بہادری، ویگڑا بھیل کی شجاعت و بہادری۔ ایسے بے شمار ہیروز کی تاریخ سومناتھ مندر سے وابستہ ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انہیں کبھی مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ بلکہ حملوں کی تاریخ کو بھی بعض مورخین اور سیاست دانوں نے ’وائٹ واش‘ کرنے کی کوشش کی۔ مذہبی جنون کو محض عام لوٹ مار قرار دے کر چھپانے کے لیے کتابیں لکھی گئیں۔ اپنے مذہب کے تئیں ایماندار کوئی بھی شخص ایسی انتہاپسند سوچ کی حمایت نہیں کرے گا۔ لیکن خوشامد کی سیاست کرنے والوں نے ہمیشہ اس انتہاپسند سوچ کے سامنے گھٹنے ٹیکے۔
جب ہندوستان غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا تو سردار پٹیل نے سومناتھ کی از سر نو تعمیر کا عہد کیا، تو انہیں بھی روکنے کی کوشش کی گئی۔ سن 1951 میں اس وقت کے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد کے یہاں آنے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس وقت سوراشٹر کے مشہور جام صاحب مہاراجہ دگ وجے سنگھ آگے آئے تھے۔ زمین کے حصول سے لے کر حفاظتی انتظامات تک انہوں نے قومی وقار کو سب سے اوپر رکھا۔ اس دور میں جام صاحب نے سومناتھ مندر کے لیے ایک لاکھ روپے کا عطیہ دیا تھا اور انہوں نے ٹرسٹ کے پہلے صدر کے طور پر بڑی ذمہ داری نبھائی تھی۔
