آج کے جدید سیاسی تناظر میں اگرچہ بادشاہانہ نظام کو کسی بھی طور درست یا مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس عہدِ رفتہ کی ایک بات اور ایک روایت ایسی تھی جس کا اعتراف مانے بغیر چارہ نہیں۔ماضی کے اس نظام میں درباروں کے اندر "آدابِ فرزندی" اور "آدابِ وزارت" باقاعدہ سکھائے جاتے تھے۔ جہاں دربار کا چھوٹے سے چھوٹا کارندہ، یہاں تک کہ ایک عام "ساقی" اور خدمت گار بھی آدابِ محفل، گفتگو کے سلیقے اور کڑی تربیت سے گزر کر ہی بادشاہ کے حضور یا غیر ملکی سفیروں کے سامنے کھڑا ہوتا تھا۔ وہاں بازاری زبان کا استعمال تو دور، کسی لغزشِ زبان کا تصور بھی محال تھا۔ جب پرانے وقتوں میں ایک عام خادم ملکی وقار کا اس حد تک پاسدار اور تربیت یافتہ ہوتا تھا، تو آج کے اس ترقی یافتہ اور جمہوری دور میں وزارتِ عظمیٰ اور کابینہ کے وزراء کے لیے ایسی تربیت تو کہیں زیادہ لازمی اور ناگزیر ہونی چاہیے، کیونکہ ان کے ہاتھوں میں محض ایک دربار نہیں بلکہ کروڑوں عوام کا مستقبل اور پوری قوم کی عزت ہوتی ہے۔
آج کے دور میں وزراء کو یہ سکھانے کی اشد ضرورت ہے کہ جب وہ کسی عالمی اسٹیج پر ملک کی نمایندگی کر رہے ہوں، تو ان کی باڈی لینگویج (طرزِ نشست و برخاست)، ان کا لباس، ان کے بیٹھنے کا انداز اور گفتگو کا سلیقہ ایک عظیم اور مہذب قوم کا عکاس ہونا چاہیے، نہ کہ کسی غیر تربیت یافتہ شخص کا۔ موجودہ دور کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اور ٹی وی اسکرینز پر اکثر وزراء کی جانب سے غیر پارلیمانی، عامیانہ اور غیر محتاط زبان کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے، جو پل بھر میں ملکی عزت کو عالمی سطح پر خاک میں ملا دیتا ہے۔اگر ہم ماضی کی اس خوبصورت اور باوقار روایت کو جدید رنگ میں ڈھالنا چاہیں، تو اس کا ایک ہی عملی حل ہے۔ ملک میں وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد ہر منتخب وزیر کے لیے ایک لازمی اور جامع کورس متعارف کرایا جانا چاہیے، جسے ہم "آدابِ حکومت" (Statecraft & Protocol) کا نام دے سکتے ہیں۔ اس کورس کے دوران ان وزراء کو سفارتی باریکیاں، الفاظ کا درست چناؤ، بین الاقوامی پروٹوکول اور ابلاغ کے پیشہ ورانہ طریقے سکھائے جائیں۔یہ قدم اس لیے بھی ضروری ہے کہ دنیا کے کئی باشعور ممالک میں یہ سلسلہ کامیابی سے جاری ہے، جس سے ان کے ملکی وقار میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر:سنگاپور: وزراء کی انتظامی اور فکری تربیت میں دنیا کا سب سے مثالی ملک مانا جاتا ہے۔برطانیہ: یہاں نو منتخب وزراء کو میڈیا کا سامنا کرنے، پریس کانفرنس اور الفاظ کے باوقار چناؤ کی لازمی ٹریننگ دی جاتی ہے۔جرمنی: یہاں وزراء کو عالمی فورمز پر بحرانی صورتحال میں گفتگو اور عوامی خطابت کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔
افریقی ممالک (جیسے یوگنڈا): جہاں حکومت بنتے ہی وزراء کے لیے ۱۰ دن کا لازمی "آدابِ حکومت" (Cabinet Induction) کا کیمپ لگایا جاتا ہے تاکہ سفارتی فاش غلطیوں سے بچا جا سکے۔جب تک ہمارے ہاں بھی حکومتی سطح پر طرزِ تکلم اور زبانی اسلوب کی یہ لازمی ٹریننگ شروع نہیں ہوگی، تب تک ہم عالمی بساط پر اپنی قوم کا حقیقی وقار اور بھرم قائم نہیں رکھ پائیں گے۔

