دونوں ممالک کے درمیان ریسیپروکل لاجسٹکس سپورٹ ایگریمنٹ (آر ای ایل او ایس) کافی عرصے سے زیر بحث ہے۔ اس کا مقصد دیرینہ اسٹریٹجک فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس معاہدے پر 18 فروری کو ماسکو میں ہندوستانی سفیر ونے کمار اور اس وقت کے روسی نائب وزیر دفاع الیگزینڈر فومین نے دستخط کیے تھے۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اتارتاس کے مطابق روسی حکومت نے اس معاہدے کی منظوری کے لیے ایک تجویز ریاستی ڈوما کو پیش کر دی ہے۔ یہ معاہدہ ایک دوسرے کے علاقوں پر فوجی اہلکاروں، جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کی باہمی تعیناتی کا طریقہ کار طے کرتا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق اس تجویز میں روس اور ہندوستان کے درمیان ایک معاہدے کی منظوری کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کے تحت روسی فوجی یونٹس، جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے ہندوستانی اڈوں پر تعینات کیے جاسکتے ہیں اور ہندوستانی فوجی یونٹس، جنگی جہاز اور لڑاکا طیارے روسی اڈوں پر تعینات کیے جاسکتے ہیں، ساتھ ہی انہیں تکنیکی اور لاجسٹک مدد فراہم کی جائے گی۔
تجویز کے مطابق فوجی دستوں کو مشترکہ مشقوں اور تربیتی پروگراموں، انسانی امداد، قدرتی آفات سے نمٹنے اور دونوں فریقوں کی طرف سے متفقہ دیگر حالات کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔ روسی حکومت کا خیال ہے کہ اس دستاویز کی منظوری سے ہندوستان اور روس کے درمیان فوجی تعاون مزید مضبوط ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اس سے قبل امریکہ کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاہدہ کر چکا ہے۔
