بیروت، 29 نومبر (مسرت ڈاٹ کام) حزب اللہ کے سربراہ نے شہید ہیثم طباطبائی پر حملے کو پورے لبنان پر حملہ قرار دیتے ہوئے ہر حال میں بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے مزاحمتی گروپ حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ہاتھوں کمانڈر ہیثم طباطبائی کی شہادت کا بدلہ ہر حال میں لیا جائے گا اور اس کا وقت حزب اللہ خود طے کرے گی۔
انہوں نے شہید طباطبائی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں کہا کہ شہید طباطبائی نے حساس اور اہم موقع پر نمایاں کردار ادا کر گیا۔ وہ ایمان اور حکمت عملی میں بے نظیر تھے اور چار سال تک خصوصی فورسز کے منصوبے کی قیادت کرتے رہے۔ 2006 میں اسرائیلی حملوں کے دوران الخیام علاقے میں انہوں نے بہادری کے ساتھ مزاحمت کی۔ دشمن کا مقصد ان کی ہمت توڑنا تھا، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک کھلے میدان میں موجود ہیں جہاں امریکی، مغربی اور عرب خفیہ اداروں کے تعاون سے اسرائیل آزادانہ طور پر حرکت کر رہا ہے، لیکن حزب اللہ اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ شہید طباطبائی یمن میں بھی اثرانداز ہوئے اور وہاں مقبولیت حاصل کی۔ ان کی قربانی ان کے مقصد کی تکمیل کا ذریعہ بنی، اگرچہ ان کی شہادت بہت بڑا نقصان ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ کمانڈر ہیثم طباطبائی اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کھلا جرم اور ننگی جارحیت ہے۔ حزب اللہ خود وقت مقرر کرکے اس کا بدلہ لے گی۔ حزب اللہ نے ہر مشکل مرحلے میں اپنی طاقت کو دوبارہ بحال اور نئے کمانڈروں کو تیار کیا ہے۔ لبنان میں موجودہ جنگ بندی بھی حزب اللہ کے لیے کامیابی ہے کیونکہ اس نے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنایا۔
انہوں نے کہا کہ آج سے ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جس میں لبنانی حکومت کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی جارحیت صرف مزاحمت پر نہیں بلکہ پورے لبنان پر حملہ ہے۔ پورے لبنانیوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے دفاع کے لئے کردار ادا کریں۔ حکومت سب سے زیادہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس نے اس معاہدے کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ وہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے۔ دشمن کو آزاد علاقوں پر قبضہ کرنے یا لبنان میں اپنے عناصر تعینات کرنے سے روکنا ہوگا۔ اس کی بنیادی ذمہ داری حکومت پر ہے، جو اب تک کسی علاقے کو آزاد نہیں کرسکی اور اسے چاہیے کہ دشمن کو ہمارے ملک میں قدم جمانے سے روکے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ حکومت نے دشمن کو لبنان میں تعینات ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ مقاومت کی موجودگی میں وہ لبنان میں قدم نہیں جماسکتا۔ ہم حکومت کو کہنا چاہتے ہیں کہ ہم دفاع کے لیے تیار ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ اس تیاری سے فائدہ اٹھائے۔ لبنان میں ایسے گروہ بھی موجود ہیں جو اسرائیل کو قبول نہیں کرتے اور اس کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں، لہٰذا یہ معاملہ صرف مقاومتی بلاک تک محدود نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے حامی لبنان میں کم ہیں، لیکن یہی قلیل افراد امریکہ اور تل ابیب کے ساتھ مل کر ملک میں استحکام اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مقاومت کے ہتھیار ہی اسرائیل کے منصوبوں کو ناکام بناتے ہیں اور جو بھی مقاومت کو غیر مسلح کرنا چاہتا ہے، وہ دراصل اسرائیل کی مدد کر رہا ہے۔
