130 رنز کے ہدف کا تعاقب کرنے اتری بنگلہ دیشی ٹیم کی شروعات اچھی نہیں رہی اور صرف سات رنز کے اسکور پر اپنا پہلا وکٹ فرزانہ حق (دو) کی شکل میں گنوا دیا۔
اس کے بعد شرمین اختر 10 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئیں۔ ایسے وقت بیٹنگ کے لیے آنے والی کپتان نگار سلطانہ نے روبیعہ حیدر کے ساتھ مل کر اننگز کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے تیسری وکٹ کے لیے 62 رنز کی اہم شراکت داری کی۔ یہ شراکت داری 25ویں اوور میں فاطمہ ثنا (23) کے آؤٹ ہونے سے ٹوٹی۔ بنگلہ دیش نے 31.1 اوورز میں تین وکٹوں پر 131 رنز بنا کر سات وکٹوں سے میچ جیت لیا۔ روبیعہ حیدر نے 77 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے 54 رنز کی ناٹ آوٹ اننگز کھیلی۔ شوبھنا 24 رنز بنانے کے بعد ناٹ آؤٹ رہیں۔
اس سے قبل پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستانی ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، پاکستان ویمنز ٹیم بنگلہ دیش کی شاندار کی شاندار گیندبازی کے سامنے 38.3 اوورز میں صرف 129 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔
پاکستانی بیٹنگ لائن اپ پہلے اوورز سے ہی مشکلات میں اُس وقت گِر گئی تھی جب بنگلہ دیشی باؤلر معروفہ اختر نے لگاتار گیندوں پر عمیمہ سہیل اور سدرہ امین کو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ کردیا، وقفے وقفے سے گرنے والی وکٹوں کی وجہ سے پاکستان ٹیم بڑے ا سکور تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
رامین شمیم نے 2 چوکوں کی مدد سے 23 رنز بنائے اور 17 رنز سکور کرنے والی منیبہ علی کے ساتھ تیسری وکٹ کی شراکت میں 42 رنز کا اضافہ کیا، سدرہ نواز 15 اور عالیہ ریاض 13 رنز بناکر آؤٹ ہوئیں۔
کپتان فاطمہ ثنا نے 22 رنز کی اننگز کھیلی، ڈیانا بیگ 16 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہیں۔
بنگلہ دیش کی لیگ سپنر شورنا اختر سب سے کامیاب گیندباز رہیں انہوں نے صرف 5 رنز دےکر 3 وکٹیں حاصل کیں، معروفہ اختر اور ناہیدہ اختر نے 2،2کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
