کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کررہے لداخ میں تشدد کے دوران فائرنگ سے چار لوگوں کی موت ایک بہت سنگین مسئلہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کارگل جنگ میں حصہ لینے والے اور ملک کے مختلف حصوں میں ہندوستانی فوج کے بہادر سپاہی کے طور پر خدمات انجام دینے والے ایک سابق فوجی کی اس واقعے میں جان چلی گئی۔ ان کے والد بھی ایک فوجی تھے اور سابق فوجی والد اپنے بیٹے کی موت کی خبر سے شدید غمزدہ ہیں۔
تشدد میں سابق فوجی کی موت کی خبر پر مسٹر کھڑگے نے کہا، "لداخ کا غم پوری قوم کا غم ہے۔ شہید تسیوانگ تھرچن نے کارگل جنگ میں مادر ہند کے لیے اپنا فرض ادا کیا، اس کے بدلے میں انہیں کیا ملا؟ لداخ میں مودی حکومت کی گولی۔ باپ اور بیٹا دونوں فوج میں تھے۔ گلوان میں جب ہمارے 20 بہادر جوانوں نے ایل اے سی پر ملک کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا، اس وقت خود مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ تھمائی تھی۔ اس وقت انہیں ہمارے جانبازوں کی بہادری کی یاد نہیں آئی، تو اب کیا خاک آئے گی۔ جو چین کو کلین چٹ دے سکتے ہیں، وہ ہمارے تسیوانگ تھرچن جیسے بہادر جوانوں کی شہادت کا احترام کیا کریں گے۔ یہی ہے بی جے پی کی کھوکھلی قوم پرستی ہے۔
مسٹر گاندھی نے لداخ میں احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات کی عدالتی تحقیقات اور قصورواروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے مسٹر مودی پر لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا اور کہا کہ اپنے حقوق مانگنے والوں کو تشدد سے ڈرانے کی بجائے ان سے بات چیت کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لداخ کےایک سابق فوجی کے درد وکرب کا ویڈیو بھی جاری کیا، جس نے ملک کے مختلف حصوں میں خدمات انجام دیں اور جس کا بیٹا لداخ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں مارا گیا۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے کہا، "باپ فوجی، بیٹا بھی ایک فوجی- جن کے خون میں حب الوطنی چلتی ہے، پھر بھی بی جے پی حکومت نے ملک کے اس بہادر بیٹے کی گولی مار کر جان لے لی، صرف اس لیے کیونکہ وہ لداخ اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا تھا۔ باپ کی درد بھری آنکھیں صرف ایک سوال پوچھتی ہیں - کیا آج ملک کی خدمت کا یہی صلہ ہے؟"
مسٹر گاندھی نے کہا، "ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لداخ میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے اور مجرموں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ مودی جی، آپ نے لداخ کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ وہ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ بات چیت کریں - تشدد اور خوف کی سیاست بند کریں۔"
