مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ امر نہایت باعث افسوس ہے کہ یہ طلبہ اور نوجوان اسکالرز، جو یو اے پی اے جیسے غیر معمولی قوانین کے تحت برسوں سے جیل میں قید ہیں اورمقدمے کی سماعت کے بغیر اپنی آزادی کے بنیادی حق سے محروم رکھے گئے ہیں۔ ان کی اصل خطا محض شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف پرامن آواز بلند کرنا ہے، جو جمہوری اقدار اور آئینی آزادی اظہار پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
مشاورت نے زور دے کر کہا ہے کہ ضمانت سے انکار دراصل بغیر سزا سنائے سزادینے کے مترادف ہے، جو انصاف کے اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ جب کہ فسادات کے حقیقی ذمہ دار اور اشتعال انگیزی کرنے والے افراد آزاد گھوم رہے ہیں، پرامن اختلاف رائے رکھنے والے نوجوانوں کو سزا دینا انصاف کے نظام میں کھلے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
مسلم مجلس مشاورت عدلیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ آئینی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے شفاف اور فوری ٹرائل کو یقینی بنائے۔ حکومت سے بھی اپیل ہے کہ وہ پرامن احتجاج کرنے والوں کے خلاف یو اے پی اے جیسے قوانین کا غلط استعمال بند کرے۔
مسلم مجلس مشاورت ڈاکٹر عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ اور دیگر قیدی کارکنان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور تمام جمہوریت نواز طاقتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اختلاف رائے کو جرم بنانے اور اقلیتوں کو خاموش کرنے کی اس مہم کے خلاف آواز بلند کریں۔
