ریاض، 12 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) سعودی عرب نے پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ایرانی حملے ایک خطرناک اور بلا جواز اشتعال انگیزی ہیں جس کے نتائج خطے کے استحکام کے لیے سنگین ہیں۔ سعودی عرب نے زور دیا کہ ایران کے رویے حسنِ جوار کے اصولوں سے میل نہیں کھاتے اور نہ ہی امن کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں۔
یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب عبدالعزیز الواصل نے ایک خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی معاندانہ کارروائیوں کا تسلسل تناؤ میں اضافہ کرے گا اور مملکت اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایران کے رویے کشیدگی کو کم نہیں کر رہے۔ اس رویے کے خطرناک نتائج کی ذمہ داری بھی ایران پر ہی عائد ہوگی۔
واضح رہے گزشتہ فروری کے اواخر سے اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی جس میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر ایرانی اعلی حکام جاں بحق ہوگئے۔ اس کے بعد ایران نے خلیجی ملکوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ خلیجی ملکوں میں امریکی مفادات پر حملے کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں اس نے خطے کے بنیادی ڈھانچے اور سویلین تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
ایرانی حملے دارالحکومت ریاض اور دیگر سعودی شہروں تک پہنچ گئے۔ سعودی دفاعی فورسز نے بدھ کو 22 ایرانی ڈرونز اور 7 بیلسٹک میزائل تباہ کیے جو ریاض کے ضلع الخرج کے مشرقی حصے، کچھ منطقہ شرقیہ اور کچھ ربع الخالی میں شیبہ آئل فیلڈ کی جانب داغے گئے تھے۔ اس کے علاوہ الخرج میں پرنس سلطان ایئر بیس اور منطقہ شرقیہ کے ضلع حفر الباطن کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ریاض نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ اور جارحیت کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس تناظر میں سعودی فضائی دفاعی صلاحیتوں کی تعریف کی گئی جنہوں نے وطن کے اندر مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے دشمن میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنادیا ہے۔
