وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعرات کو یہاں ہفتہ وار بریفنگ میں ایران کے ساتھ بات چیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ "گزشتہ چند دنوں میں وزیر خارجہ اور ایران کے وزیر خارجہ کے درمیان تین بار بات چیت ہوئی ہے۔ آخری گفتگو میں شپنگ کی سلامتی اور ہندوستان کی توانائی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔"
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر فی الحال مزید کچھ کہنا میرے لیے قبل از وقت ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے بعد سے مغربی ایشیا اور خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور ایران کے انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس راستے سے عالمی ایندھن کی سپلائی کا تقریباً 25 سے 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔
جہاز رانی کی وزارت میں خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بدھ کو کہا تھا کہ جہاں تک سمندری شعبے کا تعلق ہے، فی الحال ہندوستانی پرچم والے 28 جہاز خلیج فارس میں چل رہے ہیں۔ ان میں سے 24 جہاز آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں ہیں جن پر 677 ہندوستانی ملاح کام کر رہے ہیں اور 4 جہاز آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ہیں جن پر 101 ہندوستانی ملاح کام کر رہے ہیں۔ ان تمام جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کے لیے حکومت فعال نگرانی کر رہی ہے۔
