Masarrat
Masarrat Urdu

دہلی ہائی کورٹ سے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد

Thumb

نئی دہلی، 02 ستمبر (مسرت ڈاٹ کام): دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق طالب علم عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 2020 دہلی فسادات کی مبینہ سازش میں ان کا کردار بادی النظر میں سنگین ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹرائل کو عجلت میں نمٹانا نہ صرف ملزمان بلکہ ریاست کے حقوق کے لیے بھی نقصان دہ ہوگا۔

بنچ نے کہا کہ استغاثہ کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کو جو کردار تفویض کیا گیا ہے، اسے "ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا"۔

 

استغاثہ نے دعوی کیا کہ بادی النظر میں یہ دونوں ہی پہلے افراد تھے جنہوں نے فوری اقدام کیا، جب دسمبر 2019 میں شہریت (ترمیمی) بل منظور ہوا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے واٹس ایپ گروپس تشکیل دیے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں احتجاج اور چکّا جام کی اپیل پر مشتمل پمفلٹس تقسیم کیے، جن میں ضروری اشیاء کی سپلائی روکنے کی بات بھی شامل تھی۔

 

استغاثہ کے مطابق، دونوں نے عوام کو یہ تاثر دیا کہ سی اے اے مسلم مخالفِ قوانین ہیں۔

 

عدالت نے کہا کہ ان کے مبینہ اشتعال انگیز اور اکسانے والے بیانات کو مجموعی طور پر دیکھنے سے بادی النظر میں ان کے کردار کا پتہ چلتا ہے۔

بنچ نے مزید کہا کہ اگرچہ فسادات کے وقت ان کی براہِ راست موجودگی ثابت نہیں ہوئی، لیکن یہ الزام ہے کہ وہ "واقعات کی منصوبہ بندی اور ڈیزائننگ" کے اہم سازشی تھے، اس لیے ان کی غیر موجودگی ان کے کردار کو کم نہیں کرتی۔

عدالت نے کہا: "جلدبازی میں ٹرائل دونوں اپیل کنندگان اور ریاست کے حقوق کے لیے نقصان دہ ہوگا۔"

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مقدمہ پہلے ہی الزامات طے کرنے کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔

 

Ads