Masarrat
Masarrat Urdu

نیپال میں سیلاب سے 95 لوگوں کی موت، تقریباً چار سو سیاحوں اور مسافروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات

  • 26 Aug 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

کاٹھمنڈو، 26 اگست (مسرت ڈاٹ کام) نیپال میں تبت سرحد کے قریب بدھ کے روز بھوٹے کوشی ندی میں اچانک آئی تباہ کن سیلاب میں کم از کم 95 لوگوں کی موت ہو گئی، جب کہ 105 ہندستانی سیاحوں سمیت 384 سیاح اور مسافر لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

نیپال پولیس کے شام 7:14 بجے تک کے بلیٹن کے مطابق رسوا، نواکوٹ، دھادنگ، چتون، گورکھا، تنہوئں اور نول پراسی مشرق میں 95 لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔ رسوا کے تیمورے میں نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس کے 32 اہلکار بھی لاپتہ ہیں۔ حکام نے ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ سیلاب سے پولیس تھانے، کسٹم سینٹر، نجی مکانات، پل اور سڑکوں سمیت بڑی تعداد میں بنیادی ڈھانچے بہہ گئے ہیں۔ نیپال سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں کئی بڑی عمارتوں، مکانات، گاڑیوں اور دیگر ڈھانچوں کو تیز بہاؤ میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ آپریشن جاری ہے اور کئی مقامات پر بند سڑکوں کو کھولنے کا کام کیا جا رہا ہے۔ نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق، لاپتہ 384 مسافروں میں 105 ہندستانی سیاح شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نیپال، برطانیہ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کے شہری بھی لاپتہ بتائے گئے ہیں۔

نیپال میں مقیم 37 تارکین وطن بھارتیوں کے بارے میں بھی ابھی کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ متاثرہ علاقے میں موجود لوگوں کا پتہ لگانے کے لیے سرحد کے دونوں جانب تلاش اور بچاؤ مہم چلائی جا رہی ہے۔ سیلاب میں 20 میگاواٹ کے لانگ تانگ کھولا ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے جڑے 60 افراد بھی بدھ کی صبح سے رابطے سے باہر ہیں۔ پروجیکٹ کے پروموٹر وجے موہن بھٹرائی کے مطابق ان میں 25 انجینئرز، ڈرائیور اور باورچی خانے کے ملازمین اور سرنگ کے اندر کام کرنے والے 35 مزدور شامل ہیں۔ پروجیکٹ کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی اور دو دن بعد آزمائش شروع ہونی تھی۔ تیمورے میں واقع رسوا کسٹم آفس کے 15 ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال بینکرز ایسوسی ایشن کے مطابق، بھوٹے کوشی کے سیلاب میں نو کمرشل بینکوں کی شاخیں بہہ گئیں اور تقریباً 26 ملازمین اب بھی رابطے میں نہیں ہیں۔ نیپال حکومت نے صورتحال کا جائزہ لینے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ نچلے علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کر کے امدادی ٹیموں اور ہیلی کاپٹروں کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ نیپال مسلح پولیس فورس کے ترجمان شیلیندر تھاپا نے کہا کہ بھوٹے کوشی کے بالائی علاقے میں گلیشئل لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (جی ایل او ایف) اس تباہی کی ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے۔ زخمیوں کے علاج کے لیے کاٹھمنڈو کے سرکاری ہسپتالوں اور سیکیورٹی فورسز کے طبی مراکز کو تیار رکھا گیا ہے۔ نیپال پولیس ہسپتال کے نو ڈاکٹروں کی ٹیم ضروری طبی سامان اور ایمبولینس کے ساتھ رسوا روانہ ہو چکی ہے۔

اس دوران، چین کی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق تبت میں گیرونگ بندرگاہ کے قریب بھی بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے، جس سے سڑک، مواصلات اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی اور کئی لوگوں کے لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپال کے وزیر اعظم بلیندر شاہ سے فون پر بات کر کے جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ ہندوستان اس آفت کی گھڑی میں نیپال کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ رسوا گڑھی علاقہ لانگ تانگ اور کیلاش مانسروور جانے والے سیاحوں اور ٹریکرز کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

 

Ads