Masarrat
Masarrat Urdu

ترقی پسند تحریک میں وامق جون پوری کی معنویت ! شاعری کے حوالے سے۔

  • 28 Apr 2019
  • فیروز ہارونی
  • ادب
Thumb

 
     جب ہم شاعری کے حوالے سے ترقی پسند تحریک کی بات کرتے ہیں تو ہمارا ذہن علی سردار جعفری،جوش ملیح آبادی،فیض احمد فیض ،مخدوم محی الدین وغیرہ کے طرف چلا جاتا ہے۔اور باقی دوسرے ترقی پسند شاعروں کو کمتر سمجھ کر اکثر چھوڑ دیتے ہیں ۔
       وامق جون پوری کا نام بھی انہی میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر حقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وامق جون پوری بھی اسی قبیل  کے شاعروں میں سے ہیں جس قبیل کے شاعر فیض ،مجاز،جوش ،مخدوم سردار جعفری وغیرہ ہیں ۔
   یہ ہماری بے بسی کہئیے یا نسیان پن کہ اکثر ہمارے ناقدین کسی تحریک سے صرف چند ادیبوں کا نام اٹھا لیتے ہیں اور انہی پر اپنی تنقیدی محنت صرف کرتےہیں ۔اور اس کے برابر کے دوسرے شاعروں یا ادیبوں کے نام کو سرد خانوں میں ڈال دیتے ہیں ۔ جیسا کے ہمارے ناقدین نے مومن خان مومن کے ساتھ کیا ہے۔مومن خان مومن اپنے وقت کے اول درجے کے غزل گو شاعر تھے۔غالب سے بھی زیادہ انکو سنا جاتا تھا۔ادبی ترتیب یوں ہوتی تھی ۔ ذوق،مومن،غالب ۔مگر آپ دیکھئے کہ سب سے زیادہ غالب پر کام ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے۔اس کے بعد ذوق پر بھی بہت کام ہوا ہےاور مومن پر سب سے کم بلکہ نہ کے برابر کام ہواہے۔اسی طرح کامعاملہ وامق جونپوری کےساتھ بھی پیش آیا ۔
     بلکہ حقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وامق جون پوری بھی صف اوّل کے ترقی پسند شاعر تھے مگر ان کے طرف سے صرف نظر کرکے انہیں کم رتبے کا شاعر بنادیاگیا ہے۔
     وامق جون پوری بیک وقت غزل گو بھی ہیں اور نظم گو بھی انہون نے غزل بھی خوب لکھے اور نظم بھی خوب لکھا۔پہلے کچھ باتیں غزل کے حوالے سے کر لیتا ہوں ۔پھر نظم کے حوالے سے بات ہوگی ۔
       ترقی پسند غزل گو شاعروں میں ہمیں جرائت مندی دلیری رجائیت صداقت بیان جزبات و احساسات کی ترجمانی اور وضاحت کا پورا اندازہ ہوتا ہے ۔
وامق جونپوری کے یہاں بھی جوش فیض مجاز کے طرح یہ تمام خصوصیات صداقت قوت فیصلہ جرائت جوان مردی حرارت وگرمی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔۔
ان کے دو اشعار سنئے ۔۔۔
یاسیت کا ہمیں ملزم نہ بناؤ یارو 
آگ جو دل میں لگی ہے وہ بجھاو یارو 
یہ بھی ممکن نہیں ہوتو رحم نہ کھاؤ یارو
ہم ہیں حق گو ہمیں سولی پہ چڑھاؤ یارو ۔
           ترقی پسند تحریک کا ابتدائ دور رومان پسندی کا دور تھا اور وامقجونپوری ترقی پسند تحریک کے شروعاتی دور میں ہی اس تحریک سے وابسطہ ہوگئے تھا اسلئے انکی ابتدائ کلام میں رومانیت،اور عشقیہ جزبات کے اثرات دیکھنے کو ملتا ہے۔اسلئے جب ہم انکے مجموعہ میں شامل غزلوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ دور اوّل کے کلام میں عشقیہ جزبات اور رومانی تخیلات زیادہ ہیں ۔اور صاف پتہ چلتا ہیکہ وامق کسی کی محبت میں ایک سیل روان کی طرح بہ رہے ہیں ۔لیکن یہ بات بھی سچ ہیکہ وامق اس وقت عمر کے جس مرحلہ میں تھے  عشق و محبت کے سیلاب میں بہ جانا قرین قیاس تھا ۔لیکن عمر کے اس دہلیز پر بھی عشقیہ جزبات اور محبت کو ایک خاص لیے میں گایا ہے۔جہاں کلاسیکی شاعری کا رنگ جھلکتا ہے۔اور کہیں بھی وامق کے کلام میں عریانیت و ابتذال کا شائبہ تک نہیں ہوتا ۔
اشعار سنئے ۔۔
زبان تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے
نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداوئوں کو
چھپانے سے زمانے بھر میں شہرت اور ہوتی ہے۔
وامق کی زندگی اور انکا مجموعہائےکلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہےکہ انہون نے ابتدائی دور میں جو عشقیہ کلام کہے ہیں ان میں سادگی ،جزباتی کشش اور محبت کی پاکیزگی کا احساس موجود ہے ۔۔
اشعار دیکھئے کہ۔۔۔
ہم جو محبت کی قسم کھا گئے 
ان کےحسین چہرے پہ رنگ آگئے 
کھویاکھویا سا پاکے ہمیں وہ دل کی باتیں جان گئے 
اور ان کا تجاہل دیکھتے ہی ہم انکی نظر پہچان گئے 
ایک غزل کا اور دو اشعار سن لیجئے ۔۔
ایک خواب ایسا بدن لپٹا ہوا  پھولوں میں 
باد صدرنگ اٹھاتے ہوئے ڈالی کی لچک 
ایک گلزار تصور ہے بہت تیرے لیے 
اے جنون اور بہک اور بہک اور بہک ۔
     یہان محبوب کا بہت خوبصورت تصور  ملتا ہے جہان محبوب کو تصور میں لاکر جنوں کے بہکنے کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔اور ساتھ ہی جنوں کے انتہا تک رسائ چاہتے ہیں ۔لیکن بعد میں پھر وامق جنون اور خرد کی جنگ میں خرد کو فتحیاب کر لیتا ہے۔اور یوں کہتا ہے۔
اے اندھی جوانی والےسن اے رنگ پہ جانے والے سن
یہ موہنی صورت والےسب بہروپ نگر کے دھوکے ہیں ہنسکرجوکسی نےدیکھ لیاتم نےبھی وہیں دل پھینک دیا
سمجھے نہ ذرا بھی اس پردہ میں دنیا بھر کے دھوکے ہیں۔
لیکن جیسے  جیسے وقت گزرتا گیا وامق بھی اپنے جزبات اور احساسات کو بدلتے گئے ۔خود ان کے زبان سے ۔ ۔۔۔۔ادھر     شاعری  کا لہجہ بدلا ،نئے نئے محاورات،علامات،اور ترکیبیں ،شعور میں تبدیلی واقع ہوئ ،میرے لیے یہ سوال تھا کہ حالات حاضرہ اور اس سے پیدا ہونے والے عصری مطالبات کو پوری طرح سمیٹ کر کس زبان میں بیان کرون،نیا لہجہ بلا اختراع ممکن نہیں ۔کلاسیکی اسٹائل سےمیں نے ترقی پسند ادب کو برتا۔۔
چنانچہ عشق ورومان کی منزل سے گزر کر جب ترقی پسند تحریک انقلاب پر پہنچی تو وامق جونپوری بھی انقلابی غزل گو شاعر بن گئے۔ اسوقت انگریزوں کا ہندوستان پر تسلط تھا۔اورعلامہ اقبال اور چکبست نے اس سے پہلے ہی انقلابی شاعری شروع کردی تھی ۔
علامہ اقبال کا یہ مصرع زبان زد عام وخاص کو چکا تھا ۔۔۔
اٹھو میری دنیا کے غریبون کو جگا دو 
کاخ امرا کے درودیوار ہلا دو 
جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی 
اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلادو ۔۔
 
ترقی پسند تحریک نے بھی اسی انقلابی راستے کو اپنا یا اور وامقجونپوری اس سے متاثر ہوکر انقلابی شاعری کہنے لگے ۔
سنئے ۔۔
اٹھ کر زمین سے پھوک دیئے میں نے آسمان 
پابند سنگ ہوکے رہوں وہ شرر نہیں
زنجیر ٹوٹنے کی صدا سن رہے ہو تم 
کس نے کہا ہماری فغاں میں اثر نہیں ۔۔
 
 
وامق جونپوری کی نظم نگاری ۔۔۔۔۔۔
 
     
         جدید نظم نگاری کے میدان مین اقبال نے سب سے زیادہ پیش قدمی کی ہے ۔اس کے مطابق وزیر آغا لکھتے ہیں ۔۔
اردو نظم میں اقبال کی حیثیت ایک موڑ کی سی ہے وہ نظم کے کلاسیکی دور اور رومانی دور سنگم پر ایستادہ ہیں ۔اس کےیہاں کلاسیکیت کا انضباط رکھ رکھاو اور تنظیم بھی ہے اور رومانیت کا تحرک،داخلیت پسندی اور ہیجان بھی ۔۔۔
ترقی پسند ادیبوں نے بھی اسی راستہ کو بر قرار رکھا۔۔ چنانچہ ترقی شاعری کے اسلوب کے بارے میں ال احمد سرور لکھتے ہیں ۔۔۔
اردو شاعری میں کسی زمانے میں اتنا تنوع نہ تھا جتنا اجکل ہے ۔۔یہ تنوع ہماری زندگی سے آیا ہے ۔۔جنگ عظیم نے ساری دنیا کو ایک سی رحمتیں اور لعنتیں عطا کیں ۔اور ہندوستان بھی جو ذہنی اعتبار سے متمدن دنیا سے کچھ بیگانہ سا ہو رہا تھا ان سے اپنا دامن محفوظ نہ رکھ سکا ۔جنگ عظیم سےپہلے ہماری شاعری ایک خاموش اور پر سکون دریا کی طرح تھی اس کے بعد اس میں طوفان ،طوفانوں کی تیزی بے مہری تباہی اور غارت گیری اور زرخیزی اور زندگی آگئی ۔۔۔
انہی زمانوں میں وامق جونپوری اور بیشتر ترقی پسند شعرا جن مین جوش ،فیض ،مجاز ،سردار جعفری ،جانثار اختر ،مخدوم وغیرہ رومان کی دنیا سے ترقی پسند تحریک کے مارکسی نقطہ نظر اپنا کر حقیقت پسندی کی دنیا میں قدم رکھے ۔کچھ ہی مہنوں بعد وامق جونپوری گورکھپور میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے تحت ایک مشاعرہ میں یہ قطعہ سنا کر اپنا نظریہ فکر کا اظہار کرتا ہے ۔۔۔
دریا میں طلاطم برپا ہے کشتی کا فسانہ کیا معنی
گرداب سے جب لڑنا ہے تمہین تنکے کا سہارا کیا معنی 
یہ نوحہ کشتی بند کرو خود موجئہ  طوفان بن جاو
پیروں کے طلے ساحل ہوگا ساحل کی تمنا کیا کرنا۔۔
 
       وامق جونپوری کا مجموعہائے کلام  چیخیں ،جرس،شب چراغ،سفر ناتمام میں نظموں کی کثرت ہے۔ان نظموں مین وامق جونپوری کے فکروفن کا بتدریج ارتقا ملتا ہے۔وامق جونپوری کا ابتدائ زمانہ دوسری جنگ عظیم کا زمانہ تھا انہوں نے براہ راست ہندوستان میں انگریزوں کے بربریت کا زمانہ کو دیکھا تھا انہی حالات کو وامقجونپوری کے کلام میں انہوں نے براہ راست پیش کیا ہے۔
چنانچہ انہی موضوعات کے بارے میں وامق جونپوری کہتےہیں۔
فی الاصل موضوع خود شاعرانہ یا غیر شاعرانہ نہیی ہوتا وہ تو  شاعر کا زاویہ نگاہ یا انداز بیاں ہوتا ہے جو انکو شاعرانہ یا غیر شاعرانہ بنا دیتا ہے۔۔۔
       یہی وجہ ہیکہ وامق جونپوری نے زندگی سے تعلق رکھنے والی ہر حقیقت پر خامہ فرسائ کی ہے۔چاہے وہ گاندھی جی کے قتل کے معاملے میں ہوں یا پھر بنگال کی قحط سالی پر ہوں یا پھر لکھنو کی لڑکیوں کی حالات زار یا پھر سیاسی لیڈران کی خونی چال ۔انہوں نے ہر موضوع پر قلم اٹھایا ہے ۔۔
         وامق جونپوری کا مشہور نظم --شرابی ---ہے جس میں زندگی کی بے کیفی اور بے بسی کو دیکھایا گیا ہے۔
نظم کے چند اشعار سنئے ۔۔
سرد پڑتاجارہا ہے دل کا انگارہ کوئ 
وہ فضا تھرائ وہ ٹوٹا کہیں تارا کوئ 
یا میرے سپنے پر چلکر رک گیا آرا کوئ 
یہ نہیں تو کس لئے میں نے اٹھایا جام میے 
ان سماجی کلفتون کو میں اٹھا سکتا نہیں 
دامن تہذیب کے دھبے چھپا سکتا نہیں
ہوش میں رہکر میں اپنے کو بھلا سکتا نہیں 
یہ نہیں تو کس لیے میں نے اٹھایا جام مے
        نظم شرابی کے بندوں میں وامق ان چیزوں کی نشاندھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔جن سے ان کے کرب و اضطراب کا اندازہ ہوتا ہے۔وہ عمر کے اس مقام پر بھی جہاں حسرتوں اور آرزوئوں کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ رہنماؤں کی مکاریاں دیکھتے ہیں جو قتل وخون سے اپنی آستین لال کیے بیٹھے ہیں۔لہذا وامق کی فطرت اس بات پر آمادہ نہیں کہ وہ سماج کی لعنتوں کو برداشت کرتے رہیں اوراسپر کچھ نہ کہے۔جیسا کے میں نے پہلے کہا کہ ترقی پسند تحریک کے ابتدائ چند سالوں میں بعض ترقی پسند شعرا کے یہاں رومانی جزبات کا عروج ملتا ہے اس کے کئ اسباب ہیں ۔کیونکہ تحریک سے تعلق رکھنے والے نوجوان تعلیم یافتہ تھے۔بے روزگاری کے مسائل اور بے کاری کا ماحول تھا ،معاشی تنگی سے لوگ گزر رہے تھے۔چنانچہ فرسٹریشن اور تنگ دستی کی وجہ سے رومانیت ایک اماجگاہ کی طرح تھی ۔جہاں حالات سے گھبراکر نوجوان شعرا پناہ لیتے تھے ۔اس سلسلہ میں ہمیں بہت کچھ سجاد ظہیر کے ناولٹ لندن کی ایک رات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔وامقجونپوری کی نظم ۔۔۔اس پار ۔۔۔پڑھنے کے بعد ہمیں ویسے ہی جزبات کا احساس  ہوتا ہے۔۔
نظم سنئے ۔۔۔
یہ روئ ہے شبنم پربت پریا اپنا ہی بھیگا  دامن ہے 
آہٹ ہے کسی کے پیروں کی یا اپنے ہی دل کی دھڑکن ہے۔
ان ٹوٹی ہوئ زنجیروں کے مین کب تک جوڑ ملاونگا 
اس پار مجھے جانے بھی دو روکو نہ مجھے میں جاؤنگا ۔
 
اس میں ایک فراریت کی کیفیت کو دیکھایا گیاہے ۔ملک کا نظام اور باگ ڈور انگریزوں کے ہاتھ میں تھی ۔اور نوجوان میں اعلی تعلیم ہونے کے باوجود روزگار کے مواقع میسر نہ تھے ۔۔اسلئے ایک کرب و اضطراب کی سی کیفیت تھی ۔۔۔
وامق جونپوری کا ایک اور مشہور نظم ۔۔قحط بنگال۔۔ہے اسکا چند مصرع ملاحظہ ہوں ۔۔
پورب دیس میں ڈگی باجی پھیلا سکھ کا کال 
دکھ کی اگنی کون بجھائے سوکھ گئے سب تال 
جن ہاتھوں نے موتی دولے آج وہی کنگال ہے ساتھی 
آج وہی کنگال 
بھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال 
پیٹھ سے اپنے پیٹ لگائے لاکھوں الٹے کھاٹ 
بھیک منگائ سے تھک تھک کر اترے موت کے گھات 
جین مرن کےڈنڈےملائےبیٹھے ہیں چنڈال رے ساتھی 
بیٹھے ہیں چنڈال 
بھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال 
 
انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں سجاد ظہیر نظم ۔۔۔بھوکا بنگال  ۔۔کے مناسبت سے لکھتے ہیں ۔۔
      وامق جونپوری کے اس ترانے سے لاکھوں آدمیوں کا جزبہ حب وطن اور اتحاد بیدار ہوا اور اس میں کوئ شک نہیں کہ پیپلز تھیٹر کے پروگرام میں اس زمانے میں وہ ایک ایسا زبردست وسیلہ تھا ۔جس کے ذریعہ سے لاکھوں روپیہ اور غلہ بنگال  کیلئے  جمع کیا اور ہمارے ہزاروں ہم وطنوں کی جان بچی ۔ترقی پسند ادب کی تاریخ میں وامق کا یہ ترانہ صحیح معنوں میں سونے کے حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں ۔۔۔۔
      وامق جونپوری کے شاعری میں عوامی لب و لہجہ آسان الفاظ اور مانوس تشبیہات،علامات و استعارات کی کثرت ہے۔اس قبیل کی نظموں میں ۔جنتا کی لڑائ ،الف لیلہ،مائٹی ایٹم ،قدم کی جھنکار وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔
     علامتی نظموں میں وامق جونپوری کا ایک مشہور و معروف نظم۔مینا بازار۔ہے 
اس نظم میں وامق جونپوری نے بہت ہی فنکاری اور بے باکی کے ساتھ ہماری معاشرتی تضاد اور ہمارے معاشرہ کے ایک ستم رسیدہ طبقہ میں پائ جانے والی بے بسی کراہ اور بے چینی کی ترجمانی کی ہے نیز یہ نظم سماج میں صنف نازک کے اس طبقے کی زندگی اور حالات پر طنز ہے جسے معاشرے نے خود جنم دیا ہے ۔اور پھر اسے سماج سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔وامق نے منٹو اور عصمت کی طرح جنسی مسائل کا بے باکانہ بیان تو نہیں کیا بلکہ استعاروں اور علامتوں کی مدد سے طوائف پیشہ اور اس سے منسلک افراد کی حالات  زار پرمہذب معاشرے سے احتجاج کیا ہے۔ یہ وامق جونپوری کے فکروفن کا کمال ہیکہ اپنے احتجاج کو ۔۔نالئہ پابند نے۔۔۔۔بنادیا ہے ۔جسپر جنسی کج روی کا کسی بھی زاویئے سے الزام عائد نہیں ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہیکہ پروفیسر محمود الحسن اس نظم کے بارے میں تاثرات کا اظہار یوں کرتے ہیں ۔۔۔
وامق کی مشہور نظم ---مینا بازار ۔۔۔کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ عوام کے ذہنوں میں اس کے مصرعے گونجتے رہتے تھے ۔جیسے انہوں نے ادب کو عام انسانوں سے اتنا قریب کر دیا تھا ۔کہ وہ اپنی ایک چیز بن گئی تھی ۔ ادیبوں ،دانشوروں ،کسانوں ،مزدوروں ،امرا روسا کوئ بھی اس نظم سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔
 
نظم کے چند اشعار دیکھئے ۔۔۔
وہ مہو شان سیم بر       فسوں طراز رہ گزر 
دروں میں اپنے آ گئیں 
سماج کی یہ بیٹیاں      سماج ہی کی بیویاں 
نظر کے تیز بھالوں سے شراب کے پیالوں سے 
فرشتوں سے شریف تر      زمین  کے رہنے والوں سے 
خراج حسن  پائیں گی   ہنسیں گی اور ہنسا ئیں گی 
یہ وہ ہیں جن کی زندگی     مسرتوں سے دور ہے 
یہ وہ ہیں جن کی کر ہنسی    جراحتوں سے چور ہے 
وامق جونپوری کا یہ نظم بہت مشہور و معروف ہے۔اس نظم پر پروفیسر احتشام حسین لکھتے ہیں۔۔۔
۔۔وامق کی نظموں میں مینابازار مخصوص۔ توجہ کی مستحق ہے اس میں شاعری اور مقصد کا حسین امتزاج ہے ۔مرقع خوبصورت پر اثر اور متنوع ہیں۔موسیقی دھیمی اور غم ناک ہے۔الفاظ رواں اور سادا ہیں ۔علامتیں واضح اور خلوص گہرا ہے۔اس میں سماجی حقیقت نگاری کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔۔۔۔
اس قبیل کے اور بہت سارے نظمیں ہیں جن میں وامقجونپوری نے سماج کے تھکے نظام پر طنز کیا ہے۔
مزکورہ کچھ نظمیں میں نے مثال کے طور پر میں نے لیا ہے ورنہ وامق جونپوری نے ترقی پسند تحریک میں رہتے ہوئے اور بہت سارے نظمیں لکھیں ہیں ۔جن میں سماجی نابرابری مزدوروں اور عوام کے کرب ودرد کو بڑے خوش اسلوبی اور عام زبان میں بیان کیا ہے۔۔جن مین چند مشہور نظمیں ہیں ۔دہلی،مسلم ہندی ،وطن کا میرے کاروان ،پاپی ،اس پار ،ماضی کی آخری ہچکی ،رات کے دو بجے ،چڑھائ ،جنتا کی لڑائی،عروش ایشیا ،آنکھیں ،ہم بزدل ہیں ،تقسیم پنجاب ،کارل مارکس وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔۔
مختصر یہ کہ وامق جونپوری ترقی پسند تحریک میں اپنی شاعری کی ابتدا کی اور اسمیں رہتےہوئے سماجی،سائنسی،معاشی ،معاشرتی ،اور مارکسی ہر طرح کے مضامین پر قلم اٹھائے۔اسلئے انکی شاعری ان کے فکروفن کے ارتقا کی عمدہ مثال ہے۔
ان کی شاعری کا محور رجائیت ہے وہ کشمکش حیات سے فکر مند نہیں ہوتے ہیں ۔بلکہ عزم مصمم کے ساتھ فنی تخلیقات میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں ۔وامق نے اپنے فن کو عبادت کا درجہ دیا ہے اسلئے ان کی شاعری میں فن کے گہرے رچاو کے ساتھ ساتھ کلام میں شہریت ،رمزیت ،کنایت،تہ داریوں اور صوری و معنوی پیکروں کی دنیا آباد نظر اتی ہے۔
لیکن ہماری بے حسی دیکھیے کہ ہم نے اب تک وامق پر وہ کام نہیں کیا جس طرح سےکرنا چاہیے تھا ۔
اب وقت آگیا ہیکہ ہمارے ریسرچ اسکالرس بنے بنائے راستہ سے ہٹکر ایسے ہی لوگوں پر کام کرے جس پر ابھی تک خاطر خواہ کام نہیی ہواہے ۔اس سے نہ صرف ترقی پسند تحریک کی اہمیت بڑھے گی بلکہ ادب میں ایک نیا باب وا ہوگا ۔۔
اور موجودہ دور میں ہندوستان کی جو حالات ہیں جہان انسان کے جان سے زیادہ حیوانوں کے جان کی قیمت ہیں ایسے میں وامقجونپوری کا مطالعہ بہت سود مند ثابت ہوگا ۔۔۔
 
ریسرچ اسکالر 
دہلی یونیورسٹی   دہلی ۔۔

Ads