Masarrat
Masarrat Urdu

ایران کے جوہری معاملے کا حل صرف سیاسی راستے سے ممکن ہے، گروسی

  • 06 Jun 2026
  • مسرت ڈیسک
  • دنیا
Thumb

اقوام متحدہ، 6 جون (مسرت ڈاٹ کام) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے کا حل سیاسی اور سفارتی ذرائع سے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے ایران میں معائنوں کی بحالی کو ضروری قرار دیتے ہوئے دعوی کیا کہ تہران اور واشنگٹن ممکنہ معاہدے کے نسبتا قریب آ چکے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سربراہ رافائل گروسی نے ایران کے جوہری تنازعے کے حل کے لیے سفارتی اور سیاسی طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی پائیدار فوجی حل موجود نہیں۔

الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گروسی نے کہا کہ ایران کے جوہری مراکز میں ایجنسی کے معائنوں کی بحالی کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے ایجنسی ایران کے اعلان کردہ یورینیم ذخائر کی مکمل جانچ نہیں کر سکی۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی کا اندازہ ہے کہ ایران کا جوہری مواد اب بھی انہی مقامات پر موجود ہے جہاں حملوں کے آغاز کے وقت تھا، اور ایرانی حکام نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔

گروسی کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات میں بعض اہم مسائل بدستور زیر بحث ہیں، تاہم موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق کسی ممکنہ سمجھوتے کے پہلے کے مقابلے میں زیادہ قریب آ چکے ہیں۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ آئی اے ای اے ان مذاکرات کا براہ راست حصہ نہیں، لیکن ایجنسی ان تمام پیش رفتوں کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

گروسی نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کو مطلع کرنے کا پابند ہے۔ ان کے خیال میں اگر کوئی معاہدہ طے پاتا ہے تو ایران کے اعلیٰ درجے کی افزودگی والے یورینیم کے ذخائر کو کم کرنا یا ان کی افزودگی کی سطح گھٹانا ایک مناسب راستہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کسی فوجی کارروائی کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، اس لیے سفارت کاری ہی اس تنازعے کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے۔

Ads