انہوں نے ان خیالات کا اظہار پریس کے لیے جاری آج ایک ریلیز میں کیا۔
مسٹر ملک معتصم خاں نے ’فارنر ٹربیونل‘ کے کام کاج کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس ٹربیونل پر من مانی اور سیاست سے متاثر ہوکر فیصلے کرنے کا شبہ کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو بالخصوص ’ بنگالی بولنے والے میاں مسلمانوں ‘ کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آسام این آر سی ‘ کے دوران غیر ملکی قرار دیے گئے ملوگوں میں سے تقریباً دو تہائی ہندو تھے جبکہ مسلمان صرف ایک تہائی تھے۔ مگر حراست میں بیشتر مسلمانوں کو لیا جا رہا ہے اور انہیں غیر منصفانہ طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ ٹربیونل نے جو احکامات جاری کیے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ یہ شہریوں کو دیئے گئے قانونی حقوق اور تحفظ کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام لوگوں کی فوری رہائی کی جائے اور ٹریبونل کی کارروائیوں پر روک لگائی جائے۔ یہ گرفتاریاں قانون کے مطابق نہیں ہیں اور یہ انصاف اور انسانیت کے مسلمہ اصولوں کے بھی خلاف ہے‘‘۔
جماعت اسلامی ہند ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے جو ’ این آر سی ‘ کے غلط استعمال کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی قانونی و اخلاقی مدد کے لیے تیار ہے۔ جماعت ، سول سوسائٹی اور ملک کے تمام میڈیا سے گزارش کرتی ہے کہ وہ اس صورت حال سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگاہ کریے اور اس مسئلے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے قومی بحث کا موضوع بنائے۔ ہم حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان اقدامات پر نظر ثانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کسی بھی شہری کو غیر ملکی قرار دے کر ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ نیز اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ بلا تفریق مذہب و ملت اور ذات و عقیدہ ملک میں ہر فرد کی عزت اور حقوق کا تحفظ کیا جائے گا ۔
