مسٹر حیات-مقدم نے کہا کہ ان چاروں ممالک کے جہاز دفاعی و حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم اس آبی گزرگاہ سے آزادانہ طور پر گزر سکتے ہیں اور اب تک امریکہ نے انہیں روکنے کے لیے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
انہوں نے 'ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی' (آئی ایس این اے) کو دیے گئے انٹرویو میں کہا: "فی الحال ہم نے ہندستان، چین، عراق اور قطر کو آبنائے ہرمز میں ٹرانزٹ کی پابندیوں سے چھوٹ دے دی ہے۔ ان ممالک کے جہاز آزادانہ طور پر گزرتے ہیں اور امریکی بھی انہیں نہیں روکتے۔"
انہوں نے کہا کہ ان چاروں ممالک کے جہازوں کو پابندیوں سے چھوٹ دینے کا مقصد باہمی مفادات کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ مسٹر حیات-مقدم کے مطابق، ایران ہندستانی جہازوں کی آمد و رفت کو ادویات کی فراہمی کے لیے آسان بنا رہا ہے، جبکہ چین کو سیاسی حمایت یقینی بنانے کے مقصد سے اس کے جہازوں کو پابندیوں سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے بتایا کہ ہندستانی اور چینی جہازوں نے تہران کو ٹرانزٹ فیس ادا کیا ہے، جبکہ قطر کے جہازوں کو اس آبی گزرگاہ سے بلا معاوضہ گزرنے کی اجازت ہے۔ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ عراقی جہازوں کو بھی کوئی فیس دینی پڑتی ہے یا نہیں۔ مسٹر حیات-مقدم نے یہ باتیں فارسی زبان میں کہیں۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی فراہمی کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے۔ ہندستان خام تیل کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے اور اپنی کل ضرورت کا تقریباً 90 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ پہلے ہندستان کی توانائی کی فراہمی کا بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے ہو کر آتا تھا۔ حالیہ برسوں میں ہندستان نے روس، مغربی افریقہ اور امریکہ سے خرید بڑھا کر توانائی کے ذرائع میں تنوع لانے کی کوشش کی ہے۔
